Al-Risala · March 2006 · page 28

Bangalore: Scenes from an Indian city.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۲۸

چنانچہ اس نے اپنی موت کے وقت اپنے بیٹے ٹیپو سے یہ التماس کیا کہ تم انگریزوں سے صلح کر لینا: In his dying words to Tippu that Hyder implored him to make peace with the british. (V/235) سلطان ٹیپو کی پوری تربیت اپنے باپ کے ساتھ فوجی انداز میں ہوئی تھی۔ وہ پوری طرح فوجی طرز فکر میں رنگ چکا تھا۔ چنانچہ وہ اپنے جنگ جو یا نہ ذہن کو بدل نہ سکا۔ اور اپنے والد کی نصیحت کے خلاف انگریزوں سے بے فائدہ لڑائی لڑ کر ۱۷۹۹ء میں مارا گیا۔

حیدر علی اور ٹیپو کی مثال بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں سیاسی مزاج کے لوگ کس طرح جنگ و جدال میں اپنی بہترین صلاحیت کو ضائع کرتے رہے۔ یہ لوگ صرف سیاسی اور فوجی چیزوں کی اہمیت کو جانتے تھے۔ وہ اس سے بے خبر تھے کہ اس دنیا میں اس سے بھی زیادہ بڑی ایک چیز ہے، اور وہ ہے روحانی سکون اور ذہنی ارتقاء۔ یہ لوگ نہایت اعلیٰ صلاحیت کے مالک تھے، مگر اپنی اس صلاحیت سے وہ اپنی شخصیت کی تعمیر میں کوئی کام نہ لے سکے، یہاں تک کہ وہ مر کر اس دنیا سے چلے گئے۔ محترمہ سارہ فاطمہ کے دو بیٹے ہیں۔ یہ دونوں نہایت ذہین ہیں اور بشپ کاٹن اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح بڑوں سے بات کرتے تھے اسی طرح آپ بچوں سے بات کرتے تھے۔ بچوں سے بات کرتے ہوئے آپ اپنے آپ کو بچوں کی سطح پر لے آتے تھے، تاکہ بچے آپ کی بات سمجھ سکیں۔ مثلاً ایک بچہ جو ایک چڑیا پالے ہوئے تھا، ایک بار اس سے بات کرتے ہوئے آپ نے کہا: یا أبا عمیر، ما فعل النغیر! میں نے سارہ فاطمہ کے بیٹے سے کہا کہ میری بات کو دہرائیے۔ انھوں نے دہراتے ہوئے انگریزی میں اس طرح کہا:

The Prophet could come down to the level of understanding of the children. پروفیسر جعفری سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ عرصے سے میری کتابیں پڑھتے رہے ہیں، وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ اس قسم کی باتیں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ: آپ کی سب

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page