Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۲۹
باتیں ٹھیک ہیں، مگر آپ کا ایک مائنس پوائنٹ ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ کی تحریریں پڑھنے کے بعد کسی اور کی تحریر پڑھنا انسان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف اسی بنگور میں ایک اور مسلم بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میں ماہنامہ الرسالہ پڑھتا تھا، مگر اب میں نے اس کو پڑھنا چھوڑ دیا۔ اس کا سبب انھوں نے یہ بتایا کہ آپ ہمارے اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔ میں نے ان سے اس تنقید کی کوئی متعین مثال پوچھی، مگر وہ کوئی متعین مثال نہ بتا سکے۔ میں نے کہا کہ الرسالہ میں تنقید نہیں ہوتی بلکہ وہ کسی معاملے کا تجزیاتی مطالعہ ہوتا ہے۔ آپ اپنی حساسیت کی بنا پر اس کو تنقید سمجھ لیتے ہیں۔
بنگلور میں ایک سینئر پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ یہ جناب عطاء اللہ صاحب تھے۔ وہ نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے علم نفسیات کے اعتبار سے کئی قیمتی باتیں بتائیں۔ انھوں نے ایک مغربی اسکالر کا قول نقل کیا۔ بہترین گل دستہ دستیاب پھولوں سے بنتا ہے نہ کہ اپنی پسند کے پھولوں سے : The finest bouquet is not made of the finest flowers, but out of the available flowers. ایک تعلیم یافتہ ہندونے ایک کتاب کا ذکر کیا۔ یہ کتاب امریکہ سے چھپی ہے اور اس وقت مغربی دنیا میں بیسٹ سیلر ہو رہی ہے۔ اس کتاب میں بہت سے’’واقعات‘‘ درج کیے گئے ہیں۔ یہ واقعات لوگوں کی پچھلی زندگی کے بارے میں ہیں۔ مصنف ایک ڈاکٹر ہے۔ اس کا بیان ہے کہ اس نے ایک مخصوص تھریپی دریافت کی ہے۔ اس تھریپی کو جب کسی مرد یا عورت کے اوپر اپلائی کیا جاتا ہے تو وہ اپنے پچھلے جنم کی باتیں بتانے لگتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتاب آواگون کے نظریے کا ایک سائنسی پروف ہے۔ میں نے ان کی بات پورے دھیان کے ساتھ شروع سے آخر تک سنی۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ آپ اس کتاب کے بارے میں میرا تبصرہ تفصیل کے ساتھ سننا چاہتے ہیں یا مختصر الفاظ میں۔ انھوں نے کہا کہ مختصر الفاظ میں۔ میں نے کہا کہ پھر سنیے، یہ کتاب صرف ایک فکشن ہے، وہ کوئی ہسٹری نہیں۔ آپ میرے ساتھ امریکہ چلیے اور میں آپ کے سامنے سروے کر کے بتا دوں گا کہ اس کتاب کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues