Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۳۰
میں نے کہا کہ یہ بک بزنس کی ایک نئی تکنیک ہے۔ آج کل اس طرح کی کتابیں کثرت سے چھپ رہی ہیں جو بظاہر تاریخ کی زبان میں ہوتی ہیں، حالاں کہ ان کی حیثیت صرف فرضی کہانی کی ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ اس سے پہلے امریکا میں ایک کتاب چھپی تھی، جس کا نام یہ تھا: A monk who sold his ferrari. یہ کتاب چھپتے ہی مغربی دنیا میں بیسٹ سیلر بن گئی۔ لوگوں نے سیدھے پن میں اس کو واقعہ سمجھ لیا، حالاں کہ وہ صرف ایک فرضی افسانہ تھا۔ پھر میں نے آواگون کے بارے میں کہا کہ آواگون کے نظریے کے مطابق ہر آدمی ایک تجربے سے گزر رہا ہے۔ اس اعتبار سے اس تجربے کا علم ہر شخص کو ہونا چاہیے ۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جو تجربہ مجھ پر گذرا اس کو کوئی دوسرا شخص مجھ کو بتائے۔ جس ذاتی تجربے کو میں نے خود نہیں جانا، اس کو دوسرے آدمی نے کیسے جان لیا۔
۲۴ جولائی ۲۰۰۵ کی شام کو بنگلور میں تعلیم یافتہ مسلم خواتین کا ایک اجتماع ہوا۔ میں نے اس میں ایک مفصل تقریر کی۔ اس اجتماع کا اہتمام ”الفلاح‘‘ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ الفلاح ایک ادارہ ہے۔ جس کو سارہ فاطمہ اور کچھ تعلیم یافتہ خواتین نے قائم کیا ہے۔ میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ یہ ایک خوبصورت اور منظم ادارہ ہے۔ یہ ادارہ تمام تر الرساله مشن کی اشاعت کے لیے قائم ہوا ہے۔ اس میں ایک لائبریری ہے، جہاں سے لوگ کتابیں پڑھنے کے لیے لے جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ مکتبہ بھی ہے، جہاں سے الرساله کی تمام مطبوعات خریدی جاسکتی ہیں۔ یہاں خواتین کا ہفتے وار اجتماع ہوتا ہے۔ نیز روزانہ دعوتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ میری تقریر کے بعد حاضرین کو ادارے کی طرف سے الرساله کی مطبوعات تحفہ دی گئیں۔
میں نے اپنی تقریر میں قرآن اور حدیث کے حوالے سے مختلف باتیں کہیں ۔ اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ موجودہ زمانے میں، صنفی برابری (gender equality) کے تصور کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی تصور خود اسلام میں بھی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: النساء شقائق الرّجال (عورتیں مرد کا مساوی حصہ ہیں) یعنی عورت اور مرد دونوں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues