Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۳۱
ایک وحدت کے دو مساوی نصف کی حیثیت رکھتے ہیں:
Man and woman are two equal halves of a single unit. اصولی اعتبار سے عورت اور مرد کی سماجی پوزیشن یہی ہے۔ مگر عملی ضرورت کی بنا پر مرد کو عورت کے اوپر قوّام بنایا گیا ہے۔ قوّام سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو آج کل باس (boss) کہا جاتا ہے۔ باس ازم ہر تنظیم کی ایک عملی ضرورت ہے۔ باس ازم کے اصول کو اپنائے بغیر کوئی تنظیم نہیں چل سکتی۔ عورت اور مرد مل کر جو گھر بناتے ہیں وہ بھی ایک تنظیم ہے۔ باس ازم کے عالمی اصول سے اس تنظیم کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایک ہندو انجینئر مسٹر شلیند ر سے اسلام پر تفصیلی بات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں اسلام کی عزت کرتا ہوں، مگر میں یہ نہیں مانتا کہ کوئی ایک ہی مذہب سچا ہے۔ میں ہر مذہب کو سچائی کا الگ الگ اظہار سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ’’ہر مذہب سچا ہے‘‘ کا نظریہ صرف ایک سیاسی نظریہ ہے۔ وہ کوئی علمی حقیقت نہیں۔ اس قسم کا عقیدہ رکھنے والے لوگ یہ کرتے ہیں کہ ہر مذہب سے انتخابی باتیں لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہر مذہب کی تعلیم ایک ہی ہے، اور ہر مذہب سچا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ کسی مذہب کے پورے مجموعے کو دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم کریں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ پائیں گے کہ مختلف مذہبوں کی تعلیم یکساں نہیں۔ ایسی حالت میں آدمی اگر سنجیدہ ہے تو اس کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ہر مذہب کی تعلیمات اور اس کی تاریخ کو تقابلی انداز سے پڑھے، اور پھر یہ فیصلہ کرے کہ مختلف مذاہب میں سے کون سا مذہب زیادہ درست اور زیادہ قابلِ اعتماد ہے۔
۲۵ جولائی کی صبح کو نمازِ فجر کے بعد کچھ لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: لا ضرر ولا ضرار فی الإسلام (اسلام میں نہ نقصان اٹھانا ہے، اور نہ نقصان پہنچانا) یہی بات حضرت مسیح نے ان الفاظ میں کہی:
کبوتر کی مانند بے آزار اور سانپ کی مانند ہوشیار بنو:
Be harmless like a pigeon, and be clever like serpent.
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues