Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۳۲
اب غور کیجئے کہ کوئی شخص ان صفات کا حامل کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر وہ صفت پیدا ہو جسے ذہنی ارتقاء کہا جاتا ہے۔ ذہنی اعتبار سے ایک ارتقاء یافتہ آدمی ہی ایسا کر سکتا ہے کہ وہ ایک قسم کے انسان اور دوسری قسم کے انسان کو جانے۔ اس قسم کا ذہنی ارتقاء کسی کے اندر پیدائشی طور پر نہیں ہوتا۔ اس کے لیے کوشش کرنا ضروری ہے۔ اس تشریح کو سامنے رکھ کر غور کیجئے تو مذکورہ پیغمبرانہ قول کا مطلب یہ ہے کہ ذہنی ارتقاء کے ذریعے اپنے آپ کو اس قابل بناؤ کہ تم ایک انسان اور دوسرے انسان میں فرق کر سکو۔
الفلاح کے ادارے میں ۲۵ جولائی ۲۰۰۵ کو دوسرا پروگرام ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ مرد شریک ہوئے۔ اس موقع پر میں نے ایک مختصر تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آپ میں سے ہر ایک کو دو میں سے ایک کام کرنا ہے۔ یا تو آپ اپنا سارا وقت خدا کے کام کے لیے وقف کر دیں۔ اپنی معاش کو خدا کے حوالے کر دیں اور خدا کے دین کے جو عصری تقاضے ہیں ان کو پورا کرتے رہیں یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آپ ون مین ٹومشن بنیں۔ یعنی آپ اپنے وقت اور اپنی طاقت کو دو حصوں میں تقسیم کریں۔ ایک حصہ اپنی معاشی ضروریات کی فراہمی کے لیے، اور دوسرا حصہ خدا کے دین کی خدمت کے لیے۔ میں نے کہا کہ آپ میں سے ہر شخص کو اُنہیں دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے، تیسرا کوئی انتخاب آپ کے لیے نہیں۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے سیکولرازم کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ماہنامہ میثاق (جولائی ۲۰۰۵) میں اس کے مدیر مسئول نے لکھا ہے کہ’’ میں نے (اپنے دورے میں) بھارت کے ہر شہر میں ببانگ دہل کہا کہ سیکولرازم کفر اور شرک ہے‘‘ (صفحہ ۱۳) میں نے کہا کہ یہ ایک غیر علمی بات ہے۔ یہ اُسی قسم کی ایک غلطی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کسی بات کو اس کی منطقی انتہا (logical end) تک پہنچانا۔ یہ طریقہ بے حد خطر ناک ہے۔ اگر اس طریقے کو درست مانا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے تمام لوگ کفر اور شرک میں مبتلا ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues