Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۳۳
کیوں کہ وہاں کی بہت بڑی اکثریت درگاہوں پر جاتی ہے، اور وہاں یہ لوگ مرادیں مانگتے ہیں۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ اس پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے کچھ لوگ براہِ راست اور کچھ لوگ بالواسطہ طور پر غیر اللہ سے استعانَت کی برائی میں مبتلا ہیں۔ کیا مذکورہ نقطۂ نظر کو ماننے والے لوگ اس دوسرے معاملے میں بھی یہی کریں گے کہ وہ منطقی انتہا پر جا کر اس کے بارے میں رائے قائم کریں۔ کسی بات کو اس کی آخری منطقی حد تک پہنچانے ہی کا نام غلو ہے اور غلو اسلام میں نہیں۔ سیکولرازم کے معاملے میں اپنے نقطۂ نظر کے حق میں قرآنی دلیل دیتے ہوئے انھوں نے لکھا تھا: قرآن کی رُو سے حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہے— إن الحكم إلا الله (صفحہ ۱۲) قرآن کی مذکورہ آیت میں اور اس طرح کی دوسری آیتوں میں حُکْم کا لفظ حُکْم فطری کے معنی میں آیا ہے، وہ حُکْم سیاسی کے معنی میں نہیں آیا۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیت کو حُکْم سیاسی کے معنی میں لینا، قرآن کی معنوی تحریف کے ہم معنی ہے۔ یہ وہی غلطی ہے جس کو قرآن میں یہود کے تذکرے کے ذیل میں يحرّفون الكلم عن مواضعه (المائدہ: ۱۳) کہا گیا ہے۔
صحیح تعریف کے مطابق، سیکولرازم دراصل یہ ہے کہ ریاست، مذہبی معاملات میں عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی اختیار کرے۔ مختلف مذاہب والے سماج میں یہ گویا ایک بہترین ورکنگ فارمولا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کے مذہبی معاملے میں آزادی دیتے ہوئے مشترک ملکی معاملات کو اسٹیٹ کے حوالے کر دینا۔ سیکولرازم حقیقتاً طرفداری کا نام ہے نہ کہ لاندہبیت کا۔ تقریباً یہی پالیسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی دور کے ابتدا میں اختیار فرمائی تھی۔ چناچہ ’’صحيفۂ مدنیہ‘‘ میں جو باتیں لکھی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی: لليهود دينهم وللمسلمين دينهم (یہود کے لیے یہود کا دین، اور مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین)۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے مسلح جہاد کرنے والے علماء کو مہاتما گاندھی کے طریقے کی پیروی کرنی چاہیے تھی۔ یعنی متشددانہ طریق کار کے بجائے پر امن طریق کار پر عمل کرنا۔ انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی تو ایک نان مسلم تھے۔ کوئی نان مسلم لیڈر
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues