Al-Risala · March 2006 · page 34

Bangalore: Scenes from an Indian city.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۳۴

علماء اسلام کے لیے کس طرح نمونہ بن سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ علماء نے تو خود ہی ایسا کیا۔ ۱۸۸۵ء میں انھوں نے مسلح طریق کا اختیار کیا، اور ۱۹۱۹ء میں اس کو چھوڑ کر انھوں نے گاندھی کو اپنا سیاسی لیڈر مان لیا۔ پھر میں نے کہا کہ یہ دین کی بات نہیں ہے بلکہ یہ طریق کار کی بات ہے۔ اس طرح کے معاملے میں طریق کار اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتا بلکہ صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ حالت موجودہ کے اعتبار سے کس حد تک مفید اور نتیجہ خیز ہے۔

کمیونٹی ورک یا سوشل ورک کے بارے میں ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں اس کی بہت اہمیت سمجھی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ مدر ٹریسا کو اس معاملے میں ماڈل کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ مگر اسلامی نقطہ نظر سے جس کام کی سب سے زیادہ اہمیت ہے وہ کمیونٹی ورک یا سوشل ورک نہیں ہے بلکہ وہ دعوت ورک ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ۶۱۰ عیسوی میں نبوت ملی۔ اس وقت مکہ میں اُس کام کی سخت ضرورت تھی جس کو آج کل سوشل ورک کہا جاتا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام نے نبوت ملنے کے بعد صفا پر کھڑے ہو کر جو اپنی پہلی تقریر کی، اس میں آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ آؤ، ہم لوگ مکہ میں سوشل ورک کریں۔ اس کے برعکس آپ نے آخرت کو یاد دلاتے ہوئے کہا: واللہ لتموتن كما تنامون ولتحيون كما تستيقظون، وإنها لجنة أبداً أولنار أبداً (خدا کی قسم ! تم اُسی طرح مروگے جس طرح تم سوتے ہو۔ اور تم اُسی طرح سے دوبارہ جیو گے جس طرح تم اٹھتے ہو۔ اور بے شک اس کے بعد یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی آگ)

مکہ میں تیرہ سال گزارنے کے بعد پیغمبر اسلام مدینے گیے۔ مدینے میں اُس وقت مختلف مسائل تھے ۔ مثلاً یہودی تاجروں کا استحصال، اہل مدینہ کے لیے محنت ومزدوری کے سوا کوئی اور ذریعہ معاش نہ ہونا، مدینے میں جہالت وغیرہ۔ مگر پیغمبر اسلام نے مدینے پہنچ کر یہ نہیں کہا کہ اہل مدینہ مسائل میں مبتلا ہیں ان کے درمیان سوشل ورک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس آپ نے فرمایا: ایها الناس! اتقوا النار ولو بشق تمرة (اے لوگو! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے کیوں نہ ہو)۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page