Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۳۵
ان دونوں حوالوں سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ معلوم ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواہ مکی حالات ہوں یا مدنی حالات، دونوں جگہ کرنے کا اصل کام کمیونٹی ورک یا سوشل ورک نہیں ہے، بلکہ دعوہ ورک ہے۔ یعنی خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچانا۔ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) سے لوگوں کو باخبر کرنا۔
دنیا کے تمام مصلحین سب سے اہم کام یہ بتاتے رہے ہیں کہ دنیوی مسائل کو ختم کرکے آئیڈیل سماج بنانا۔ مگر کبھی دنیا میں اس قسم کا آئیڈیل سماج نہ بن سکا۔ حتیٰ کہ خود مکہ اور مدینہ میں بھی نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو ٹیسٹ کے لیے بنایا ہے اور اس بنا پر انسان کو آزادی دی ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں ہمیشہ مسائل موجود رہتے ہیں تاکہ انسان کا ٹیسٹ لیا جاسکے۔ جہاں تک آئیڈیل سماج کی بات ہے، وہ صرف آخرت میں بن سکتا ہے اور وہ قیامت کے بعد وہیں بنے گا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کا مطلب ہے، عصری ذہن کے لیے اسلام کو قابلِ فہم (understandable) بنانا۔ میں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں مکہ میں ایک پہلوان تھا جس کا نام رُکانہ تھا۔ وہ رسول اللہ کی پیغمبری سے انکار کرتا تھا۔ اس کو اپنی پہلوانی پر بہت گھمنڈ تھا۔ رسول اللہ نے کہا اگر میں تم کو کشتی میں پچھاڑ دوں تو کیا تم مجھ کو مان لو گے۔ چنانچہ کشتی ہوئی جس میں رسول اللہ نے رُکانہ کو ہرا دیا (سیرت ابن ہشام، ۱/ ۴۱۸) اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیغمبر وہ ہے جو پہلوان کو کشتی میں ہرادے۔ یہ نبوت کی پہچان نہیں۔ یہ دراصل ایک پہلوان کے لیے اس کے اپنے ذہن کے مطابق پیغمبری کو قابلِ فہم بنانا ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جب رُکانہ پہلوانی کی اصطلاح میں پیغمبر کی اہمیت کو سمجھ لے گا تو وہ مزید مطالعہ کرکے حقیقی معنوں میں پیغمبر کی معرفت حاصل کر سکے گا۔
بنگلور سے ایک اردو روزنامہ سالار کے نام سے نکلتا ہے۔ سالار کے شمارہ ۲۷ جولائی ۲۰۰۵ ء میں ایک خبر کی سرخی یہ تھی: طالبان جنگ جوؤں سے ملا عمر کی اپیل ــــ اس عنوان کے تحت اسلام آباد (یو۔ این۔ آئی) کے حوالے سے یہ خبر دی گئی تھی کہ: ” طالبان لیڈر ملا عمر نے طالبان جنگ جوؤں سے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues