Al-Risala · January 2006 · page 13

سیاسی اصطلاحیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۳

نوٹس جاری کر دیے کہ وہ مسلمانوں کے اس نظام فتویٰ پر پابندی لگائیں، کیوں کہ یہ لوگ اپنی حد سے تجاوز کر کے ملک کے عدالتی نظام میں مداخلت کر رہے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا یہ اقدام اصولی طور پر درست ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ فتوے کا نظام چلانے والوں نے غالباً نادانستہ طور پر یہ غلطی کی کہ وہ اپنی جائز حد سے باہر چلے گئے۔ انھوں نے زنا بالجبر کے ایک واقعے میں بالواسطہ طور پر ایک فتویٰ جاری کر دیا۔ حالاں کہ زنا بالجبر مسلمہ طور پر ایک فوجداری کیس ہے، اور فوجداری کیس سرکاری عدالت کی عمل داری میں آتا ہے۔ وہ دار الافتاء یا دار القضاء کے دائرۂ عمل سے باہر کی چیز ہے۔

سپریم کورٹ کے اس اقدام نے ایک سنگین قسم کا قانونی بحران پیدا کر دیا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ کے اس اقدام کا تعلق موجودہ نظام فتویٰ کے وجود سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صرف ایک، یا بعض غلط فتووں سے ہے۔ اس معاملے کا سادہ حل یہ ہے کہ فتوے کا نظام چلانے والے ایک عرضی انڈیا کی سپریم کورٹ میں داخل کریں۔ اس عرضی میں غیر مشروط طور پر یہ کہا گیا ہو کہ زنا بالجبر کا مذکورہ کیس ایک فوج داری کیس تھا۔ ایسے معاملے میں فتویٰ دینا عملاً ملک کے عدالتی نظام میں ایک قسم کی مداخلت تھی۔ اب وہ اپنی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے فتوے کو واپس لیتے ہیں اور آئندہ کے لیے عہد کرتے ہیں کہ وہ اپنے فتوے کا نظام مسلمانوں کے شخصی امور تک محدود رکھیں گے۔ وہ کسی بھی ایسے معاملے میں ہرگز کوئی فتویٰ نہ دیں گے جس کا تعلق دستور ہند کے مطابق، ملک میں قائم شدہ عدالت سے ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی عرضی سپریم کورٹ کے لیے یقیناً قابل قبول ہوگی اور وہ اپنا جاری کردہ نوٹس واپس لے لے گی۔

میری اس تجویز پر کچھ لوگوں کو اعتراض ہو سکتا ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو پسپائی ہے۔ اور پسپائی مسلمان کا طریقہ نہیں۔ ہمیں اقدام کر کے سامنے آنا چاہیے اور سپریم کورٹ سے لڑ کر اپنا حق منوانا چاہیے ۔

میں کہوں گا کہ یہ پسپائی کی بات نہیں، بلکہ یہ اعترافِ خطا کی بات ہے۔ اور اعتراف اور پسپائی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page