Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۳۶
کہا ہے کہ وہ بیرونی دشمنوں کے خلاف جنگ میں عام شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں۔ ملا عمر نے یہ پیغام ایک آڈیو ٹیپ کے ذریعے دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام طالبان سے کہتا ہوں کہ وہ عام لوگوں پر رحم کریں اور کسی کو تنگ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجاہدین، افغان علماء کی روحانی اولاد ہیں‘‘ (صفحہ ۳)
آج کل مسلم رہنماؤں کی طرف سے کثرت سے امن کی اپیلیں شائع کی جارہی ہیں۔ (ٹائمس آف انڈیا، ۲۵ جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۵) مگر یہ اپیلیں سراسر بے فائدہ ثابت ہوئی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ نام نہاد مسلم رہنما اس معاملے میں کرنے کا اصل کام نہیں کرتے۔ وہ فرضی اپیلیں شائع کر کے قرآن کی اس آیت کا مصداق بن رہے ہیں: يحبّون ان يحمدوا بما لم يفعلوا (آل عمران (۱۸۸) اس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلم جنگ جوں کو کھلے طور پر کنڈم کیا جائے ۔ صرف یہ کہنا کہ، اسلام دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا، یا مسلمانوں کو امن کی روایات قائم کرنا چاہیے، اس طرح کی باتوں سے نہ علماء اور رہ نماؤں کی ذمے داری ختم ہوتی ہے اور نہ اس سے جنگ جوئی یا دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
اس معاملے میں نام نہاد مسلم رہنما ایک عجیب تضاد میں مبتلا ہیں۔ وہ ایک طرف قرآن وحدیث سے امن کی تعلیمات لے کر اس کو اس طرح شائع کرتے ہیں جیسے کہ یہی مسلمانوں کا کیریکٹر ہو۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم اور مسلمانوں کا عمل دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اس معاملے کی ایک مثال خود روزنامہ سالار کے صفحات میں موجود ہے۔
اُس میں ایک طرف اسلامی امن کی اپیلیں ہیں اور دوسری طرف اُس میں مختلف مسلم ذمے داروں کے حوالے سے ایسے تبصرے شائع کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ نیویارک (۱۱ ستمبر (۹/۱۱) اور لندن میں ۷ / جولائی (۷ / ۷) کو ہونے والے تشدد کے واقعات کا کوئی تعلق مسلمانوں سے نہ تھا۔ اسلام کو بدنام کرنے کے لیے اس کا الزام مسلمانوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقے کا یہی تضاد ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کے اندر متشددانہ تحریکیں ختم نہیں ہوتیں۔ صحیح اسلامی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues