Al-Risala · March 2006 · page 37

Bangalore: Scenes from an Indian city.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۳۷

طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی غلطی کو مانتے ہوئے کھلے الفاظ میں ان کی مذمت کی جائے۔ نہ یہ کہ دور دراز نکتے تلاش کر کے مسلمانوں کو بری الذمہ ثابت کیا جائے۔

عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب اس قسم کے ناخوش گوار واقعات میڈیا میں آتے ہیں تو سارے مسلمان فی الفور یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ میڈیا کا پروپیگنڈا ہے۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ میڈیا، خواہ وہ مسلمانوں کا ہو یا غیر مسلمانوں کا، اپنے مزاج کے اعتبار سے سلیکٹیو رپورٹنگ کرتا ہے۔ یعنی وہ مثبت واقعات کو رپورٹ نہیں کرتا۔ وہ انتخابی طور پر صرف منفی واقعات کی رپورٹنگ کرتا ہے۔ یہ بات بطور واقعہ درست ہے۔ مگر خود مسلم میڈیا کا طریقہ بھی یہی ہے۔ یعنی دوسری قوموں یا دوسرے گروہوں کے مثبت واقعات کو نظر انداز کرنا اور ان کے منفی واقعات کو نمایاں انداز سے شائع کرنا۔ اس معاملے میں مسلمانوں پر فارسی شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے:

ایں گناہ است که در شهر شما نیز کنند !

بنگلور کے روز نامہ سالار کے شمارہ ۲۶ جولائی ۲۰۰۵ میں ایک خبر شائع ہوئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ مسلم علماء کے ایک وفد کو خطاب کرتے ہوئے یہاں کے پولیس کمشنر اجے کمار نے کہا کہ: آپ کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبے میں نئی نسل خصوصاً نوجوان طبقے کو آپ ایسا پیغام دیں کہ ان نوجوانوں میں خود اعتمادی، وطن پرستی اور ایک اچھا شہری بننے کا جذبہ پیدا ہو جائے وہ اپنی زندگی صرف تعمیری کاموں ہی میں صرف کریں۔ اور کسی طرح کے منفی جذبات ان کے اندر پیدا نہ ہوں‘‘۔ (صفحہ ۱) اس خبر کو لے کر محمد ضیاء صاحب نے کہا کہ میں جمعہ کی نماز باقاعدہ طور پر مسجد میں ادا کرتا ہوں اور ہر ہفتے جمعہ کے خطبات سنتا ہوں، اسی کے ساتھ میں مسلم علماء کی تقریروں میں بھی شرکت کرتا ہوں، میں نے پایا کہ کمشنر صاحب نے مسلم علماء سے جو کام کرنے کے لیے کہا ہے وہ کام بالفعل ہو رہا ہے۔ مسلم علماء برابر مسلم نوجوانوں کے سامنے قرآن وحدیث کے حوالے سے بہت سی باتیں بتاتے رہتے ہیں، مگر نوجوانوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں اصل سوال یہ ہے کہ مزید کیا کیا جائے۔ انھوں نے پوچھا کہ علماء کی تقریریں بے اثر کیوں ہو رہی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page