Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۳۸
میں نے کہا کہ یہ علماء جو باتیں کرتے ہیں وہ روایتی زبان میں ہوتی ہیں۔ روایتی زبان اپنا اثر کھو چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ زمانہ حاضر کی زبان میں لوگوں کو اسلام کا مثبت پیغام پہنچایا جائے۔ بنگلور میں ایک انجینیر سے ملاقات ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج کل تو میں بے کار ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ کے پاس تو انجینئرنگ کی ڈگری ہے پھر آپ بے کار کیوں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایک امریکن کمپنی میں کام کرتے تھے۔ مگر وہاں انھوں نے دیکھا کہ سیاہ فام اور سفید فام کے درمیان امتیاز ہوتا ہے۔ سیاہ فام کے مقابلے میں سفید فام کو زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ اس امتیازی سلوک پر انھیں غصہ آیا اور انھوں نے کمپنی سے استعفا دے دیا۔ میں نے کہا کہ آپ نے یہ فیصلہ ایک غلط تقابل کی بنا پر کیا۔ آپ نے اپنی تنخواہ کا مقابلہ امریکی کارکن سے کیا۔ اگر آپ یہ کرتے کہ امریکی کمپنی میں آپ کو جو تنخواہ مل رہی تھی اس کا تقابل آپ انڈین کمپنی میں ملنے والی تنخواہ سے کرتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ آپ کو انڈیا کے مقابلے میں بہت زیادہ تنخواہ مل رہی ہے۔ میں نے کہا کہ بیش تر لوگ غلط تقابل کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے غیر ضروری طور پر مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میں نے انھیں مشورہ دیا کہ اگر امریکی کمپنی والے آپ کو دوبارہ قبول کر لیں تو آپ فورا وہ ہاں چلے جائیے اور سابقہ شرطوں پر دوبارہ وہاں کام شروع کر دیجیے۔ آندھرا پردیش میں مارچ ۲۰۰۵ میں ایک نئی مسلم تنظیم بنی ہے۔ اس کا نام ”مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس“ (MPJ) ہے۔ اس کے سکریٹری جنرل کا انٹرویو ایک مسلم پرچے میں دیکھا۔ اس طرح کی تنظیمیں ساری دنیا میں بنی ہیں۔ جن کا مقصد امن اور انصاف بتایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک یہ وہی چیز ہے جس کو اردو میں ”شُتر گربہ ترکیب“ کہا جاتا ہے۔ یعنی دو غیر متعلق چیزوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا۔ جو مسلمان جہاد کے نام پر تشدد کر رہے ہیں، یا جو مسلمان ایسی تحریکوں کی تائید کرتے ہیں، ان سے بات کی جائے تو ہمیشہ وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم کو وہ امن چاہیے جس میں ہم کو ہمارا انصاف بھی دیا گیا ہو۔ یہ صرف ایک نادانی کی بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ امن بذات خود اپنے ساتھ انصاف نہیں لاتا۔ امن کے قیام سے جو چیز ملتی ہے وہ مواقع کار ہیں۔ نہ کہ انصاف۔ فطرت کے قانون کے مطابق
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues