Irfan's father loses his job.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۳۹
انسان کو چاہیے کہ وہ پہلے موجودہ صورت حال پر راضی ہو کر امن قائم کرے۔ اور جب امن کے نتیجے میں مواقع کار کھل جائیں تو پھر ان مواقع کو پر امن طور پر استعمال کرکے کے حکمت کے ساتھ انصاف کے قیام کے لیے کام کرے۔
موجودہ زمانے میں مسلم رہنما تقریباً دو سو سال سے انصاف کے حصول کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر آج تک اُن کو اپنا مطلوب انصاف نہیں ملا۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے امن اور انصاف کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر سمجھنا۔ اس طرح کی سوچ سرتا سر فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ جو لوگ یہ کہیں کہ ہم کو صرف وہ امن منظور ہے جس میں امن کے ساتھ انصاف بھی مل رہا ہو، ایسے لوگ دونوں ہی سے محروم رہیں گے — امن سے بھی اور انصاف سے بھی۔
دی ٹری بیون (The Tribune) کے گڑ گائوں ایڈیشن (۲۷ جولائی ۲۰۰۵ء) میں ایک مقامی خبر اس عنوان کے تحت چھپی ہوئی تھی:
Irfan's father loses his job.
خبر میں بتایا گیا تھا کہ مشہور کھلاڑی عرفان پٹھان کے والد محمود خان یہاں کی ایک تاریخی جامع مسجد میں مؤذن تھے۔ مگر ان کو اچانک برخاست کر دیا گیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ حال میں جب تیز بارش آئی تو مسجد میں رکھا ہوا تاریخی قرآن اس کی وجہ سے بھیگ کر خراب ہو گیا۔ محمود خاں قرآن کو محفوظ رکھنے میں نا کام رہے ۔ محمود خان اس مسجد میں چالیس سال سے مؤذن تھے۔ ان کے بیٹے عرفان پٹھان اسٹار کرکٹر (Star Cricketer) بن گئے ۔ اس کے با وجود انھوں نے مسجد کی خدمت نہیں چھوڑی۔ مسجد کی مجلسِ منتظمہ نے ان کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ مسجد میں ملا ہوا اپنا کمرہ چھوڑ دیں۔ محمود خاں نے مسجد کی منتظمہ کی اس کارروائی کو غلط اور غیر منصفانہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت تیز بارش تھی جس نے پورے شہر کو اور مسجد کو نقصان پہنچایا۔ اس وقت میں یہاں موجود نہ تھا۔ میں اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے لندن چلا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قرآن کا یہ نسخہ ایک قیمتی نسخہ تھا۔ یہ قرآن جس کمرے میں محفوظ تھا اس کی کنجی مؤذن کے پاس ہوتی تھی۔ مؤذن صاحب اپنے بیٹے سے ملنے کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues