And your home is not an exception.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۴۰
لیے لندن گئے تو قاعدہ کے مطابق، یہ کنجی اُنھیں مسجد کے انتظامی ذمہ داروں کو دینا چاہیے تھا، مگر وہ یہ کنجی کسی غیر متعلق شخص کو دے کر چلے گئے۔ اس لیے بروقت اس کو بچانے کی کارروائی نہ ہوسکی۔ بظاہر اس واقعے میں موذن کا ارادہ شامل نہ تھا۔ لیکن اس قسم کے واقعے میں اگر کسی اعتبار سے ہندو کا نام آجاتا تو غالباً ایک ہنگامہ کھڑا کردیا جاتا۔ اور اس کو قرآن کی بے حرمتی کا نام دے کر ایسی صورت حال پیدا کردی جاتی جس کا نتیجہ مزید جانی اور مالی نقصان کی صورت میں ظاہر ہوتا۔
ایک تعلیم یافتہ ہندو خاتون نے پوچھا کہ شادی شدہ زندگی کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ میں نے کہا کہ شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے کا فارمولا نہایت سادہ ہے ــــ اپنے شوہر کو اپنا باس بنا لیجیے: Make your husband your home boss. میں نے کہا کہ یہ فطرت کا قانون ہے۔ ہر تنظیم کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ایک ناظم درکار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر اجتماعی ادارے میں ایک با اختیار ناظم رکھا جاتا ہے۔ اور اس معاملے میں گھر کوئی استثناء نہیں:
And your home is not an exception.
ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ میں بہت پریشان رہتا ہوں۔ میں نے ایک معاشی کام شروع کیا تھا مگر اس میں کامیابی نہ ہوسکی۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ اگر آج آپ بظاہر نا کام ہوگئے ہیں تو کل انشاء اللہ آپ کامیاب ہوجائیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ نا کامی کو نا کامی نہ سمجھیں، بلکہ نا کامی کو کامیابی سے پہلے کا مرحلہ سمجھیں:
Don't take your failure as failure, take your failure as pre-succes. زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی کو کوئی ناخوش گوار تجربہ نہ ہو۔ ہر کامیاب آدمی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ نا کامیوں سے گذر کر کامیابی تک پہنچتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اس میں کوئی استثناء نہیں۔ آدمی اگر اس حقیقت کو سمجھ لے تو وہ کبھی اُس مسئلے سے دوچار نہ ہو جس کو ذہنی تناؤ کہا جاتا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے امریکا کے مشہور عیسائی مشنری بلی گراہم (Billy Graham) کا ذکر کیا۔ اس وقت وہ ٨٦ سال کے ہو چکے ہیں اور صاحب فراش ہیں۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues