Al-Risala · March 2006 · page 41

And your home is not an exception.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۴۱

تقریباً ۴۰ سال تک امریکا کے مشہور کاؤنسلر (counclor) بنے رہے۔ وہ نا امیدوں کو امید دلانے کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ مگر بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر پارکنسن (Parkinson's) کے مریض بن گئے۔ وہ دوبارہ گر پڑے جس کی وجہ سے ان کے پاؤں کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ اب وہ بسترِ مرض پر مایوسی کی زندگی گزار رہے ہیں، ایک انٹرویو میں انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: I sense that people are searching for purpose and meaning in their lives. Many feel lonely and are out of touch with the culture. (Time, December 2004, p. 16)

ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ وہ مذہب کو نہیں مانتے تھے۔ میں نے اس سلسلے میں کچھ دلائل دیے۔ میرے دلائل کے وزن کا انھوں نے اعتراف کیا۔ مگر انھوں نے کہا کہ آج کے لحاظ سے یہ بات ٹھیک معلوم ہوتی ہے مگر کل نئی حقیقتیں سامنے آسکتی ہیں، جو ان دلائل کو غیر اہم بنا دیں۔ میں نے کہا کہ آپ زندگی کے دوسرے معاملات تو آج کی بنیاد پر چلاتے ہیں مگر مذہب کے معاملے میں شک کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ کا یہ رویہ آپ کو دومملی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جب آپ اپنے دنیوی معاملات میں ہمیشہ آج کی بنیاد پر منصوبہ بناتے ہیں تو مذہبی معاملے میں بھی آپ کو اپنا منصوبہ آج کی بنیاد پر بنانا چاہیے ۔ دومملی کا طریقہ آدمی کی سنجیدگی کو مشتبہ کر دیتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ تاجر سے ملاقات ہوئی ۔ ان سے آخرت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ انسان ہمیشہ سے پر مسرت زندگی کی تلاش میں رہا ہے۔ مگر ایسی زندگی اس کو کبھی حاصل نہیں ہوئی ۔ صنعتی انقلاب کے بعد سامانِ راحت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ اب ہر چیز زیادہ نفیس انداز میں حاصل ہونے لگی۔ مثلاً کچے مکانات کے مقابلے میں جدید طرز کے پختہ مکانات، بیل گاڑی کے مقابلے میں موٹر کار کا سفر، سرائے کے مقابلے میں شاندار ہوٹلوں میں قیام، ہاتھ کے کرگھاسے بنے ہوئے معمولی کپڑے کے مقابلے میں مل کے بنے ہوئے شان دار کپڑے، زبانی پیغام رسانی کے بجائے ٹیلی اور موبائل کا طریقہ وغیرہ۔ مگر ان ترقیوں نے انسان کو پُر مسرت زندگی نہیں دی، بلکہ ایک نیا مسئلہ پیدا کر دیا ، جس کو ٹنشن کہا جاتا ہے۔ یہ صورت حال

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page