And your home is not an exception.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۴۲
انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ پُرمسرت زندگی کا گول بجائے خود درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس لیے نہیں بنایا کہ اس میں پر مسرت زندگی کی تعمیر ہو سکے۔ یہ دنیا امتحان کے مقصد کے تحت بنائی گئی ہے۔ یہاں ہر انسان حالتِ امتحان میں ہے۔ موجودہ دنیا میں پُرمسرت زندگی کی تعمیر کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی طالب علم قبل امتحان دور میں وہ کامیابی پانے کی کوشش کرے جو صرف بعد امتحان دور میں کسی کو حاصل ہوتی ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ زندگی میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم اخلاقی قدروں اور انسانی اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں تو ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ انسان کی زندگی کے دو مرحلے ہیں۔ ایک ہے موت سے پہلے کی عارضی زندگی اور دوسرا ہے موت کے بعد کی ابدی زندگی۔ آپ جو طریقے بتا رہے ہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کو اس کی عارضی زندگی میں اس کو بظاہر کامیاب کر دیں۔ مگر موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس قسم کی کامیابی کسی کے لیے مددگار بننے والی نہیں۔ موت کے بعد کی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے یہ جاننا ہوگا کہ اس کے لیے خالق کا کریشن پلان کیا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہم کو خدا کی ہدایت کی کیا ضرورت۔ اگر ہم اپنے ضمیر کی آواز پر چلیں تو وہی نجات کے لیے کافی ہے۔ میں نے کہا کہ ضمیر کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ نہیں۔ اس لیے کہ زندگی میں بار بار آدمی کے اوپر ذاتی انٹرسٹ غالب آ جاتا ہے۔ مختلف مادی مصلحتوں کی بنا پر آدمی اپنے ضمیر کے خلاف چلنے لگتا ہے۔ آدمی کی یہ روش اس کے ضمیر کو دھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ اس کی حساسیت یا ختم ہو جاتی ہے یا کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی کے پاس ضمیر کے علاوہ کوئی اٹل رہنمائی موجود ہو۔ یہ رہنمائی خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے آرٹ آف تھنکنگ کا ذکر کیا۔ انھوں نے پوچھا کہ آرٹ آف تھنکنگ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آرٹ آف تھنکنگ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق (difference) کو جانیں۔ وہی آدمی صحیح ڈھنگ پر
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues