Al-Risala · March 2006 · page 43

And your home is not an exception.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۴۳

سوچ سکتا ہے جس کے اندر فرق کو جاننے کی بصیرت موجود ہو۔ جو لوگ چیزوں کے درمیان فرق کو نہ جانیں وہ ہمیشہ کنفیوزن میں جیتے ہیں۔ وہ معاملات کو صحیح رخ سے دیکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ روحانیت دراصل مذہب کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اب دنیا میں مذہب کا دور ختم ہورہا ہے۔ اب ساری دنیا میں روحانیت کا دور آرہا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کی یہ بات روایتی مذہب کے لیے درست ہے۔ عام رواج میں جس چیز کو مذہب کہا جاتا ہے وہ مذہب کا ظاہری فارم ہے۔ جہاں تک مذہب کی اصل اسپرٹ کا تعلق ہے، وہ روحانیت ہے۔ روحانیت مذہب کا اعلیٰ درجہ نہیں۔ روحانیت مذہب کی اصل اسپرٹ ہے۔ مذہب آدمی کو مادی سطح سے اٹھا کر اعلیٰ فکری سطح پر پہنچ دیتا ہے۔ اسی کا نام روحانیت ہے۔ حیوانات جسمانی سطح پر جیتے ہیں۔ انسان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ روح کی سطح پر جینے لگے۔

مسٹرانس انور کی ڈائری میں میں نے نصیحت کے یہ الفاظ لکھے ـــــ سوچی سمجھی زندگی گزارنا، انسان کی صفت ہے اور بے سوچی سمجھی زندگی گزارنا حیوان کی صفت۔ میرے تجربے کے مطابق بیش تر لوگ بے سوچی سمجھی زندگی گزارتے ہیں۔ دورِ جدید نے لوگوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اچھے کپڑے پہنیں، اچھے گھروں میں رہیں اچھی گاڑیوں میں سفر کریں۔ اس طرح بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر واقعہ اس کے برعکس ہے۔ بیش تر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے خوش پوش حیوان نظر آتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ میری حساسیت ہے یا فی الواقع لوگ ویسے ہی ہوگئے ہیں جیسا کہ وہ مجھ کو نظر آتے ہیں۔

ایک نعت گو اپنا نعتیہ کلام سُنارہے تھے۔ مجھے یہ پورا کلام بہت عجیب معلوم ہوا۔ میرا احساس ہے کہ اکثر نعتیہ کلام محض شاعری ہوتا ہے نہ کہ نعتِ رسول۔ مثلاً مذکورہ نعت گو کا ایک شعر یہ تھا: الٰہی! روضۂ خیر البشر میں اگر جاؤں تو ایک سجدہ کروں ایسا کہ اپنے سے گزر جاؤں یہ شعر بلاشبہ ایک تخیلاتی پرواز ہے۔ بعد کے دور میں مسلمانوں میں رسول کی نسبت سے ایک عجیب بدعت پیدا ہوئی جس کو عرفِ عام میں عشقِ رسول کہا جاتا ہے۔ عشق کا لفظ رسول اللہ کے لیے بولنا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page