Al-Risala · March 2006 · page 44

And your home is not an exception.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۴۴

بلا شبہ یہ ایک بدعت ہے۔ کیوں کہ یہ لفظ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں کبھی استعمال نہیں ہوا۔ رسول اللہ کے لیے ایک مسلمان سے جو چیز مطلوب ہے وہ محبت رسول اور اتباع رسول ہے نہ کہ عاشقانہ وارفتگی۔ ایک صاحب نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: أَصْحَابُ الْجَنَّةِ بُلْه ۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ بُلہ عربی زبان میں ضعیف العقل لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ مگر یہاں اس سے مراد ضعیف العقل ہونا نہیں ہے۔ اس سے مراد وہی صفت ہے جس کو دوسری حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَفْدَتُهُم كَأَفْئِدَةِ الطَّيْر (اہل جنت کے دل چڑیوں کے دل جیسے ہوں گے)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں وہ لوگ جائیں گے جن کے ایمان نے ان کو بے ضرر، غیر انتقامی اور ایک طرفہ طور پر شفیق بنا دیا ہو۔ آخرت کی جنت میں وہ خدا پرست داخل کیے جائیں گے جنھوں نے دنیا کے سماج میں یک طرفہ طور پر امن پسند بن کر زندگی گزاری ہو۔ جن کے دل میں لوگوں کے لیے خیر خواہی کے سوا کچھ اور نہ ہو۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنت میں داخل ہونے والے بے وقوف لوگ ہوں گے۔ ایسا سمجھنا جنت اور اہل جنت کی تصغیر ہے۔ اس حدیث کا مطلب دراصل یہ ہے کہ جنت کے مستحق وہ لوگ قرار پائیں گے جو عقلِ دنیا کے معاملے میں لوگوں کو نادان دکھائی دیں۔ جن کے اوپر مفادِ آخرت کا اتنا زیادہ غلبہ ہو کہ وہ اپنے اس مفادِ آخرت کے غلبے کی وجہ سے مفادِ دنیا کے معاملے میں دوسروں کے ساتھ ہوشیاری کا معاملہ نہ کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے اس حدیث میں بُلہ کا لفظ دوسرے ناظرین کی نسبت سے ہے نہ کہ خود اہل جنت کی نسبت سے۔

سیدہ حنا صاحبہ بنگلور کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ ان کی رہائش گاہ پر ایک مختصر اجتماع ہوا۔ اس میں میں نے دعوہ ورک کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے کرنے کا سب سے ضروری کام یہی ہے۔ سیدہ حنا صاحبہ ایک بڑا کاروبار کر رہی ہیں مگر وہ پوری طرح اسلامی طریقے پر رہتی ہیں۔ وہ اس بات کی ایک مثال ہیں کہ اسلامی وضع پر قائم رہتے ہوئے ایک عورت کس طرح بڑے بڑے کام کر سکتی ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے الرسالہ میں وسیلے کے خلاف لکھا ہے۔ حالاں کہ وسیلہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page