تصوّف اور صوفی ازم
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۴
پہلے نہیں پائی جاتی تھیں۔ مثلاً ہندوؤں کے بھجن کی جگہ قوالی وغیرہ۔
صوفی ازم ہمیشہ سے روحانی اور اخلاقی قدروں پر زور دیتا رہا ہے۔ مثلاً انسانوں سے محبت، یا انسانوں کے درمیان پر امن طور پر رہنا، جس کو صوفی لوگ اپنے الفاظ میں صلح کُل (peace with all) سے تعبیر کرتے تھے۔ ایک صوفی شاعر نے اپنے ایک فارسی شعر میں صوفی مذہب کو اس طرح بیان کیا: ماقصۂ سکندر و دارا نہ خواندہ ایم از ما بجز حکایتِ مہر و وفا مپرس:
We don’t know the stories of kings and generals. We know only the stories of love and compassion. قرآن میں روحانیت کے لیے ربانیت کا لفظ آیا ہے (آل عمران: ۷۹)۔ دوسری جگہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے (الرعد: ۲۹)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک آدمی خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے تو یہ معرفت اس کے لیے برتر سچائی کے حصول کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ وہ ہر دوسری چیز سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ وہ محدود دنیا سے نکل کر لامحدود دنیا میں جینے لگتا ہے۔ وہ نفسیاتی طور پر ایک ایسے عالم میں پہنچ جاتا ہے جہاں وہ ابدی سکون کا تجربہ کر سکے۔ اسلامی تصوف کا مقصد انسان کو اسی برتر دنیا میں پہنچانا ہے۔
خواجہ فرید الدین گنج شکر (۱۲۶۵۔ ۱۱۷۵) ہندوستان کے مشہور صوفی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار کسی شہر سے ان کا ایک مرید ان سے ملنے کے لیے آیا۔ وہ اپنے ساتھ تحفے کے طور پر قینچی لایا تھا۔ اس کے شہر میں قینچی بنتی تھی۔ اس لیے اس نے شیخ کے لیے قینچی کا انتخاب کیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جب شیخ کے سامنے اپنے شہر کا یہ خصوصی تحفہ پیش کروں گا تو وہ خوش ہوں گے اور مجھے دعائیں دیں گے۔ مگر جب اس نے شیخ کے سامنے قینچی پیش کی تو انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو ہمارے کام کی چیز نہیں۔ ہمارا کام کاٹنا نہیں، ہمارا کام تو جوڑنا ہے۔ اور یہ کام قینچی کے ذریعے نہیں ہوتا۔ تم کو اگر تحفہ لانا تھا تو ہمارے لیے سوئی لے آتے۔ کیوں کہ سوئی سینے اور جوڑنے کی چیز ہے۔ اور قینچی کاٹنے اور پھاڑنے کی چیز۔ خواجہ فرید الدین گنج شکر کے خلیفہ خواجہ نظام الدین اولیاء (۱۳۲۵۔ ۱۲۳۸) تھے۔ وہ دہلی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues