Al-Risala · April 2006 · page 22

مسلم ایجنڈا

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۲۲

رکھ سکتی ہے، عمل کرنے والے کسان کے لیے اب محرومی کا کوئی سوال نہیں۔ یہاں اس سلسلے میں چند ضروری پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

۱۔ نئے حالات نے انگریزی زبان اور کمپیوٹر لٹریسی کی اہمیت بہت زیادہ بڑھادی ہے۔ اب ترقی کے لیے انگریزی زبان اور کمپیوٹر لازمی ہو چکے ہیں۔ دار العلوم دیو بند نے اس اہمیت کو محسوس کیا اور اپنے یہاں انگریزی اور کمپیوٹر کا کورس باقاعدہ طور پر جاری کر دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک کے تمام مدرسوں اور دینی اداروں کو بلاتاخیر ایسا ہی کرنا چاہیے۔

۲۔ اب تک مسلم نوجوانوں میں یہ رجحان رہا ہے کہ وہ زیادہ تر آرٹ سائڈ (Humanities) میں داخلہ لے کر پڑھتے تھے۔ یہ رجحان اب زمانے کے خلاف رجحان بن چکا ہے۔ آرٹ سائڈ میں بی اے اور ایم اے کرنے کی معاشی اعتبار سے اب بہت کم افادیت رہ گئی ہے۔ مسلم نوجوانوں کو اب بلا تاخیر یہ کرنا ہے کہ وہ انگریزی زبان اور ٹیکنیکل سبجیکٹس میں اچھی لیاقت پیدا کریں۔ خوش قسمتی سے آج کل ہر جگہ اس کی سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ مسلم نوجوانوں کو ان سہولتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ۳۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ مسلمان شادیوں میں اور دوسری تقریبات میں بہت زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ اس قسم کا خرچ فکری پس ماندگی کی علامت ہے۔ قدیم زمانے میں جب کہ خرچ کی مدیں بہت محدود تھیں تو لوگ شادیوں اور تقریبات میں اپنا پیسہ خرچ کیا کرتے تھے۔ اب پیسے کے استعمال کی دوسری زیادہ بڑی اور تعمیری مدیں وجود میں آچکی ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پیسے کو جدید تعمیری مدوں میں خرچ کرنا سیکھیں۔ مثلاً اعلیٰ معیار کے اسکول، ٹیوشن بیوروز، پروفیشنل ٹریننگ سنٹر، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس وغیرہ۔

۴۔ موجودہ زمانے میں ہر چیز کا معیار بدل گیا ہے۔ مثلاً پچھلے دور میں خاندانی منجن کی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ اب سائنسی طریقوں سے بنائے ہوئے منجن نے اہمیت حاصل کر لی ہے۔ پچھلے دور میں شاہی نسخے بڑی چیز سمجھے جاتے تھے۔ اب ساری اہمیت سائنٹفک فارمولے کی ہوگئی ہے۔ پہلے زمانے میں بیل گاڑی لوہے کے دھرے پر چلتی تھی، اب بیل گاڑی بال بیرنگ کے اوپر دوڑتی ہے۔ مسلمانوں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page