Al-Risala · April 2006 · page 23

مسلم ایجنڈا

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۲۳

کو چاہیے کہ زمانے کی اس تبدیلی کو سمجھیں اور نئی تکنیک کو سیکھ کر ہر میدان میں اعلی ترقی حاصل کریں۔ ۵۔ ۱۹۴۷ کے بعد مختلف اسباب سے مسلمان رزرویشن کو اپنے لیے کامیابی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جدید حالات نے ساری اہمیت کا مپیٹیشن کو دے دی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب رزرویشن کی بات ایک خلاف زمانہ نعرہ بن چکا ہے۔ اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ملی ڈکشنری سے رزرویشن کا لفظ نکال دیں۔ اور ساری توجہ محنت اور منصوبہ بندی پر لگائیں۔ موجودہ زمانے میں یہی ترقی کا واحد راستہ ہے۔

۶۔ ۱۹۴۷ کے بعد مسلمانوں میں سیاسی اعتبار سے نیگیٹیو پالیسی کا طریقہ رائج ہوگیا۔ یہ طریقہ مستقل ملی مفاد کے لیے سخت مہلک ہے۔ وہ جمہوری تقاضوں کے سراسر خلاف ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پازیٹیو سیاسی پالیسی کو اختیار کریں۔ یہی موجودہ زمانے میں اُن کے لیے کامیابی کا واحد راستہ ہے۔

۷۔ انتخابی پالیسی کے معاملے میں مسلمانوں کو اپنا ذہن مکمل طور پر بدلنا ہے۔ اب تک ان کا رجحان اس معاملے میں یہ رہا ہے کہ پورے ملک کے لیے ایک ملّی پالیسی اختیار کریں۔ موجودہ حالت میں اس قسم کی انتخابی پالیسی مسلمانوں کے لیے مفید نہیں۔ مفید سیاسی پالیسی صرف یہ ہے کہ مسلمان مقامی حالات کے اعتبار سے الگ الگ اپنی انتخابی پالیسی بنائیں ۔ وہ ملکی پالیسی کا طریقہ ختم کردیں۔ ۸۔ ۱۹۴۷ کے بعد سے مسلمانوں کے اوپر تحفظاتی ذہن غالب رہا ہے۔ وہ ملّی شناخت کے تحفظ کو سب سے بڑی چیز سمجھتے رہے ہیں۔ موجودہ گلوبلائزیشن کے دور میں اس قسم کی تحفظاتی پالیسی غیر مفید ہے۔ مسلمانوں کے لیے صحیح پالیسی یہ ہے کہ وہ ملّی شناخت کے بجائے دعوت کے احیاء کو اپنا نشانہ بنائیں ۔ وہ ملک میں ایک داعی گروہ کی حیثیت سے اپنا مقام حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ۹۔ دور جدید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس نے میل ملاپ اور اختلاط (interaction) کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ یہ تبدیلی ترقیاتی سرگرمیوں سے بہت زیادہ جڑی ہوئی ہے۔ ایسی حالت میں اب ’’علاحدہ مسلم پاکیٹ" کا تصور ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے۔ اب مسلمانوں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page