Al-Risala · April 2006 · page 24

مسلم ایجنڈا

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴

کو علیحدہ مسلم پاکٹ جیسی تفریقی پالیسی کو مکمل طور پر ختم کردینا چاہیے۔ دورِ جدید میں ترقی کے اعلیٰ مقام پر پہنچنے کے لیے یہ بے حد ضروری ہے۔

۱۰۔ پچھلے سو سال سے بھی زیادہ مدت سے تمام دنیا کے مسلمان اپنی آفاقیت کو ملت سے جوڑے ہوئے تھے۔ دورِ جدید کا تقاضا ہے کہ وہ اس محدودیت کو ختم کردیں ۔ وہ اپنی آفاقیت کو پوری انسانیت کے ساتھ جوڑیں۔ وہ جدید اصلاح کے مطابق، اپنے آپ کو گلوبل ولیج کا ایک حصہ سمجھیں ۔ وہ بین الملّی سیاست کے بجائے بین الانسانی سیاست کو اختیار کریں۔ اسی آفاقیت میں ان کی دینی اور ملی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ منصو بندیی (planning) کے ساتھ کام کرنے کا زمانہ ہے۔ نہ صرف ہندوستانی مسلمان بلکہ ساری دنیا کے مسلمان موجودہ زمانے میں منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ منصوبہ بند عملی امکانات کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اپنے جذبات کو جانتے ہیں۔ وہ اپنے جذبات اور امنگوں کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بناتے ہیں۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر وہ جذباتی اقدام تو بہت کرتے ہیں مگر منصوبہ بہ بند عمل میں وہ ناکام رہتے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے اس مزاج کو بدلنا ہوگا۔ اگر انہوں نے اپنے اس مزاج پر قابو نہ پایا تو مستقبل میں بھی وہ اسی طرح ناکامی کی مثال قائم کریں گے جس طرح وہ ماضی میں ناکامی کی مثالیں قائم کرتے رہے ہیں۔

موجودہ مسلمانوں کو اگر مجھے ایک مشورہ دینا ہو تو میں کہوں گا کہ ۔ جذباتی کارروائیوں سے بچیے اور سوچے سمجھے عمل کا طریقہ اختیار کیجئے، اور پھر کامیابی آپ کے لیے اتنا ہی یقینی بن جائے گی جتنا کہ آج کی شام کے بعد کل کی صبح کو سورج کا نکلنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page