Al-Risala · April 2006 · page 25

She is underutilizing her great potential.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۲۵

ایک خط محترمہ نور باجی صاحبہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ سے ٹیلی فون پر چند بار گفتگو ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ مولانا محمد ذکوان ندوی سے اکثر آپ کا ذکر ہوتا رہتا ہے جو سویڈن (اسٹاک ہوم) میں تین سال تک آپ سے قریب رہے ہیں، اور اب دہلی میں مقیم ہیں۔ میں نے آپ کے بارے میں جو اندازہ کیا ہے اس کے مطابق، آپ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ آپ کو خدا نے بہترین صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ مگر جب بھی آپ کا خیال آتا ہے مجھے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ:

She is underutilizing her great potential.

دور سے میں آپ کو جتنا پڑھ سکا ہوں اُس کے مطابق، غالباً آپ کا کیس اُس نوعیت کا کیس ہے، جو خالد بن ولید کا اسلام سے پہلے تھا۔ خالد بن ولید ایک سلیم الفطرت انسان تھے۔ خالد بن ولید نے فتح مکہ سے کچھ پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ انھوں نے ایک بار کہا کہ میں اسلام سے پہلے قریش کے ساتھ اُن کی اسلام مخالف سرگرمیوں میں قائدانہ طور پر شریک رہتا تھا۔ مگر اندر سے میں محسوس کرتا تھا کہ میں اپنے آپ کو غلط جگہ پر رکھے ہوئے ہوں (إِنِّي مُوْضِع فِي غَيْرِ شییٔ) میرا احساس ہے کہ آپ مسلسل طور پر عدم اطمینان میں مبتلا رہتی ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق، اس عدم اطمینان کا سبب یہ ہے کہ آپ نے ابھی تک اپنے آپ کو اُس کام میں نہیں لگایا جس کے لیے آپ پیدا کی گئی ہیں، اور یہ دعوت الی اللہ کا کام ہے۔ غالباً آپ کی ضرورت یہ ہے کہ آپ کو وہ چیز حاصل ہو جائے جس میں مشغول ہو کر آپ کو داخلی طور پر پوری طرح فل فل مینٹ (fulfillment) ملنے لگے۔ یعنی آپ کا داخلی جذبہ اور آپ کا خارجی عمل دونوں ایک ہو جائیں۔ آپ کے لیے غالباً وہ کام مقدر رہے جو دورِ اول میں صحابہ اور صحابیات نے کیا تھا۔ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخر عمر میں حجۃ الوداع میں اپنے أصحاب کو خطاب

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page