Al-Risala · April 2006 · page 26

She is underutilizing her great potential.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۲۶

فرماتے ہوئے کہا تھا: اللہ نے مجھے تمام دنیا کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ تم لوگ میری طرف سے، اس ذمے داری کو ادا کرو۔ آپ نے فرمایا کہ پس جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ میرا پیغام اُن لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں (فليبلغ الشاهد الغائب)

یہ بات آپ نے اپنی وفات سے تقریباً دو مہینے پہلے اپنے ایک خطاب میں فرمائی تھی۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ اصحابِ رسول کی بیشتر تعداد مکہ اور مدینہ سے باہر چلی گئی۔ یہ لوگ مختلف بیرونی ملکوں میں پھیل گئے ۔ ہر جگہ انھوں نے اسلام کے پیغام کو پہنچایا۔ ان میں صحابہ کے علاوہ صحابیات بھی شامل تھیں ۔ اس کا تاریخی ریکارڈ یہ ہے کہ قبرص (Cyprus) میں ایک صحابیہ کی قبر اب تک موجود ہے۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ سمندری سفر کر کے وہاں پہنچی تھیں ۔

اس صحابی خاتون کا نام اُمّ حرام بنتِ ملحان ہے۔ یہ واقعہ صحیح البخاری میں تین مقام پر آیا ہے۔ کتاب الجہاد میں باب غزو المرأة في البحر کے تحت، وہ اس طرح نقل ہوا ہے:

” عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ام حرام) بنتِ ملحان کے گھر آئے۔ آپ نے وہاں ٹیک لگائی (اور آپ سو گیے) پھر آپ ہنسے ۔ اُمّ حرام نے کہا: اے خدا کے رسول ! آپ کیوں ہنسے ۔ آپ نے کہا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں بحرِ اخضر (Mediterranean Sea) کا سفر کریں گے ۔ اُن کا درجہ (جنت میں) ایسا ہوگا جیسے تخت پر بادشاہ۔ ام حرام نے کہا کہ اے خدا کے رسول ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھ کو اُن لوگوں میں سے بنائے۔ آپ نے کہا کہ اے اللہ ! ام حرام کو اُن میں سے بنا۔ آپ دوبارہ لیٹ گئے، اور پھر (اُٹھ کر) دوبارہ ہنسے۔ اُمّ حرام نے دوبارہ ویسا ہی سوال کیا۔ آپ نے دوبارہ ویسا ہی جواب دیا۔ ام حرام نے کہا کہ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھ کو اُن لوگوں میں سے بنائے۔ آپ نے کہا کہ تم پہلے والوں میں سے ہو، اور تم بعد والوں میں سے نہیں ہو ۔ (أنت من الأولين ولست من الآخرين ) ۔ انس نے کہا کہ پھر اُمّ حرام نے عُبادہ بن صامت انصاری سے نکاح کیا۔ پھر انھوں نے (اپنے شوہر اور) بنتِ قَرْظہ (زوجہ معاویہ بن سفیان) کے ساتھ سمندری سفر کیا۔ پھر واپسی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page