Al-Risala · April 2006 · page 27

She is underutilizing her great potential.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷

میں وہ اپنی سواری پر بیٹھیں ۔ پھر وہ سواری سے گر پڑیں اور ان کی وفات ہو گئی ۔ “ (۹۰/۶) شارح کہتے ہیں کہ: دُفنت في قبرص، و يسمّي قبرها هناك "قبر المرأة الصالحة" یعنی قبرص میں وہ دفن کی گئیں اور وہاں ان کی قبر کو ایک نیک خاتون کی قبر کہا جاتا ہے (حياة الصحابة ۱/ ۵۹۲) اس حدیث میں دو ایسے مسلم قافلوں کا ذکر ہے جو دعوت الی اللہ کے لیے بیرونی سفر کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد، دومسلم ڈائسپورا (Muslim diaspora) ہے۔ پہلا ڈائسپورا وہ ہے جو صحابہ کے زمانے میں پیش آیا، جس کی ایک ممبر ام حرام تھیں۔ اور دوسرا ڈائسپورا ہے جو موجودہ زمانے میں پیش آیا ہے، اور آپ جس کا ایک حصہ ہیں۔ میرا دل کہتا ہے کہ اس حدیث میں آپ کے لیے ایک بشارت ہے۔ آپ گویا اسلامی تاریخ کی دوسری اُمّ حرام ہیں۔ آپ رسول اللہ کی اٗس پیشین گوئی کا ایک حصہ ہیں جس میں بعد کے زمانے میں پیش آنے والے دوسرے قافلے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اُمّ حرام اگر پہلے قافلے میں شامل تھیں تو آپ دوسرے قافلے میں شامل ہیں۔ مذکورہ حدیث کے مطابق، آپ کا سویڈن میں ہونا آپ کو یہ موقع دے رہا ہے کہ آپ اپنی دعا میں یہ کہہ سکیں کہ خدایا! مجھے اُس دوسرے دعوتی قافلے کا ایک ممبر بنا جو تیرے رسول کی پیشین گوئی کے مطابق، بیرونی سفر کرے گا اور بیرونی دنیا کے لوگوں کو تیرا پیغام پہنچائے گا۔ ایسی دعا بہت اہم دعا ہے جس میں آدمی کو دعا کرنے کے لیے کوئی ریفرنس مل رہا ہو۔ اور یہ حدیث آپ کو اس قسم کا ایک بہترین ریفرنس دے رہی ہے۔

دعا کے سلسلے میں ریفرنس کے معاملے کو سمجھنے کے لیے میں یہاں دو واقعہ نقل کروں گا۔ ایک واقعہ وہ ہے جو حدیث کی کتاب صحیح البخاری میں آیا ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ تین اللہ کے بندوں نے اپنے ایک عمل کو بطور ریفرنس استعمال کر کے خدا سے دعا کی۔ یہ دعا اس طرح مقبول ہوئی کہ اس کی وجہ سے ایک پہاڑی پتھر کھسک گیا۔ اور اُن کے لیے راستہ نکل آیا(فتح الباری، کتاب الادب، باب اجابة دعاء من بَرّ والديه، ۱۰ / ۴۱۸)

دوسرا واقعہ خود میری ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ واقعہ میں نے اپنی کتاب سفرنامہ اسپین وفلسطین

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page