Al-Risala · April 2006 · page 28

She is underutilizing her great potential.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۲۸

میں لکھا ہے۔ اس واقعے کو یہاں نقل کیا جاتا ہے :

" ۲۹ اگست ۱۹۹۵ کو میں دوسری بار مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا، اور وہاں دو رکعت نماز ادا کی۔ اُس وقت اسرائیل کے اعتبار سے ۹ بجے صبح کا وقت تھا اور ہندوستان کے لحاظ سے ساڑھے گیارہ بجے کا وقت ۔ نماز پڑھتے ہوئے میرا دل بھر آیا جب میں نے سجدہ کرتے ہوئے زمین پر سر رکھا تو اُس وقت میری زبان سے دعا کے یہ الفاظ نکلے : خدایا ! زمانے کا فرق تیرے نزدیک کوئی فرق نہیں۔ تو میرے لیے زمانی دُوری کو ختم کر دے اور مجھ کو اُس مقدس جماعت کی صف میں شریک کر دے جب کہ رسول اللہ یہاں امامت کر رہے تھے اور اُن کے پیچھے انبیاء صف باندھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ " (صفحہ ۱۳۴)

آپ جیسے لوگ جو مغربی ملکوں میں رہتے ہیں وہ وہاں کے بظاہر ناموافق ماحول سے اکثر پریشان رہتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ”ہم کس اندھیرے میں یہاں آ کر پھنس گئے “، مگر یہ منفی احساس درست نہیں۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کے اندر مثبت شعور پیدا ہو۔ آپ یہ سوچیں کہ خدا نے ہم کو یہاں بھیج کر ہمارے ساتھ خصوصی رحمت کا معاملہ فرمایا ہے۔ یہاں بھیج کر اُس نے ہم کو یہ قیمتی موقع دیا ہے کہ ہم خدا کے بندوں کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور خدا کی ابدی جنت کے مستحق بنیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اس قسم کی نیگیٹیو سوچ کو پازیٹیو سوچ میں بدلیں۔ آپ یہ سوچیں کہ یہ وہ خصوصی معاملہ ہے جو خدا نے پیغمبر کے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے اپنے پیغمبر کو بھٹکے ہوئے لوگوں کے پاس بھیجا تا کہ وہ انھیں سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرے۔ اس رحمت کے معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : لتخرج الناس من الظلمات إلى النور (ابراهیم، ۱) صحابی خاتون ام حرام بنت ملحان کے زمانے میں ڈائسپورا کا جو واقعہ پیش آیا وہ اسلام کی تاریخ میں مسلمانوں کا پہلا ڈائسپورا تھا۔ ڈائسپورا کا لفظ عام طور پر اُن یہودیوں کے لیے بولا جاتا ہے جو اپنے وطن فلسطین سے نکل کر باہر کے ملکوں میں گئے ، اور وہاں غیر یہودیوں کے ساتھ رہنے لگے۔ اس اعتبار سے اسلامک ڈائسپورا یہ ہے کہ مسلمان اپنے وطن سے نکل کر باہر کے ملکوں میں جائیں اور وہاں ایسے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page