She is underutilizing her great potential.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۲۹
مقامات پر رہائش اختیار کریں جہاں اُن کا انٹریکشن (interaction) غیرمسلموں سے ہونے لگے۔ یہی انٹریکشن دعوت کا اصل ذریعہ ہے۔ سویڈن یا دوسرے مغربی ملکوں میں جو مسلمان، تارکین وطن کی حیثیت سے رہتے ہیں، وہ یہی لوگ ہیں۔ یہ لوگ گویا کہ مسلمس ان ڈائسپورا (Muslims in Diaspora) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ امکانی طور پر خدا کے سفیر (ambassadors of God) ہیں۔ اور آپ یقینی طور پر اُن میں سے ایک ہیں۔
آپ اور آپ جیسے دوسرے مسلمان عورت اور مرد جو یورپ اور امریکا میں رہتے ہیں اُن کو أصحابِ رسول کی یہی نسبت حاصل ہوگئی ہے۔ ان کا معاملہ اس پہلو سے اصحاب رسول جیسا معاملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گویا کہ آپ جیسے لوگوں سے دوبارہ یہ فرمارہے ہیں کہ اے میری امت کے لوگو! تم میری امت کے’’آخرین‘‘میں سے ہو۔ حالات نے تم کو جن غیر مسلم ملکوں میں پہنچایا ہے، وہاں کے لوگوں کو تم میرا پیغام پہنچا دو تا کہ اُن لوگوں کے سلسلے میں میری جو پیغمبرانہ ذمے داری ہے وہ تمہارے ذریعے ادا ہوجائے۔
تفصیل میں نے اس لیے بیان کی تاکہ آپ پر یہ واضح کروں کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے آپ کا فریضہ کیا ہے، اور خدا اور رسول کی طرف سے آپ کے اوپر کیا ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ وہ ذمّے داری ایک لفظ میں، دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی اللہ کے پیغام کو اُس کی بے آمیز صورت میں تمام لوگوں تک پہنچادینا۔
اس وقت آپ جن لوگوں کے درمیان ہیں اُن میں غیر مسلم بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ غیر مسلم کا کیس اسلام سے بے خبری کا کیس ہے، اور مسلمانوں کا کیس اسلام سے غفلت کا کیس۔ غیر مسلم سرے سے اس بات کو نہیں جانتے کہ خدا نے اپنے پیغمبر کے ذریعے جو دین، انسانیت کے لیے بھیجا ہے وہ کیا ہے۔ اور موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ رسمی طور پر اسلام سے آشنا ہیں مگر زندہ شعور کی حیثیت سے خدا کا دین اُن کے ذہن کا حصہ نہیں۔ اب آپ جیسے لوگوں کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ دین حق کو غیر مسلموں کے لیے اُن کی ڈسکوری بنائیں اور مسلمانوں کے لیے دین حق کو اس حیثیت سے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues