Al-Risala · April 2006 · page 30

She is underutilizing her great potential.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۳۰

متعارَف کریں وہ ان کے لیے ری ڈسکوری (re-discovery) بن جائے۔

میں عرض کروں گا کہ اگر آپ اس کا فیصلہ کریں کہ آپ کو تاریخِ اسلام کی دوسری’’اُمّ حرام‘‘ بننا ہے، تو آپ کے عمل کا نقطۂ آغاز صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے دعا اور مطالعہ۔ ہمارے یہاں جو کتابیں اردو اور انگریزی میں چھپی ہیں وہ سب براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسی سے متعلق ہیں کہ موجودہ زمانے میں دعوتِ اسلام کا کام کس طرح کیا جائے۔ ان تمام کتابوں کا مشترک موضوع صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب (modernidiom) میں بیان کرنا۔ آپ اگر سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کریں کہ آپ کو اپنی بقیہ زندگی دعوت الی اللہ کے کام میں لگانا ہے تو سب سے پہلے آپ کو اپنے آپ کو پوری طرح تیار کرنا ہوگا۔ دعوت کا کام منصوبہ بندی کا کام ہے۔ منصوبہ بندی کے بغیر دعوت کا کام مؤثر طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ ماہ نامہ الرسالہ کے شمارہ اگست ۲۰۰۳ میں سوئزرلینڈ کا سفرنامہ شائع ہوا تھا۔ اس کے ٹائٹل پر میں نے لکھا تھا کہ ’’اپنی زندگی کا پہلا نصف حصہ ہر آدمی کھو چکا ہے۔ کامیاب وہ ہے جو اپنی زندگی کے دوسرے نصف حصے کو نہ کھوئے۔ ‘‘ آپ اگر اس جملے پر غور کریں تو آپ اس میں اپنے تمام سوالات کا جواب پالیں گی۔ میری ایک کتاب خواتین سے متعلق ہے۔ اس کا نام ’’عورت، معمارِ انسانیت‘‘ ہے۔ اس کتاب میں دکھایا گیا ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے بہترین ازدواجی زندگی وہ ہے جس میں شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے انٹلکچول پارٹنر (intellectual partner) بن جائیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اس اصول کو اپنی زندگی میں پوری طرح اختیار کر لیں۔ آپ اور آپ کے شوہر دونوں ایک دوسرے کے لیے انٹلکچول پارٹنر بن جائیں۔ ازدواجی زندگی کی بلاشبہ سب سے زیادہ معیاری صورت یہی ہے۔

میں نے دیکھا ہے کہ اکثر لوگ ایک خاص احساس میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی زندگی کے ساتھی کو اپنا انٹلکچول پارٹنر نہیں بنا پاتے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد زیادہ تعلیم یافتہ ہے اور عورت کم تعلیم یافتہ۔ اب مرد یہ سوچتا ہے کہ کم تعلیم یافتہ بیوی کو میں کس طرح اپنا انٹلکچول پارٹنر بناؤں۔ اسی طرح کبھی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page