Al-Risala · April 2006 · page 31

She is underutilizing her great potential.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۳۱

ایسا ہوتا ہے کہ عورت نے یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور مرد رسمی نوعیت کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکا۔ ایسی حالت میں عورت کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ اپنے کم تعلیم یافتہ شوہر کو کیسے اپنا انٹیلکچول پارٹنر بناؤں ۔ اس طرح بہت سے عورت اور مرد ایک عظیم نعمت سے اپنے آپ کو محروم کر لیتے ہیں۔ میں کہوں گا کہ کسی کو انٹیلکچول پارٹنر بنانے کے لیے یونیورسٹی کی ڈگری کی ضرورت نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: علم آدم الاسماء کلھا (البقرہ: ۳۱) قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر تمام اشیاء کا علم رکھتا ہے۔ جدید تحقیقات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہر فرد کے برین (brain) میں ہزاروں بلین سے بھی زیادہ پارٹکل ہوتے ہیں۔ یہ پارٹکل کیا ہیں۔ یہ دراصل انفارمیشن پارٹکل ہیں، یعنی علم کے پارٹکل۔

اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ایک شخص اگر یونیورسٹی آف سویڈن کا سند یافتہ نہیں ہے تب بھی وہ یونیورسٹی آف گاڈ سے سند لے کر اس دنیا میں آیا ہے۔ ایسی حالت میں ہر انسان یکساں طور پر تعلیم یافتہ ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کے لیے یہ امکان پوری طرح موجود ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ساتھی کو اپنا انٹیلکچول پارٹنر بنائے۔ اور ذہنی ارتقاء کے اُن عظیم فائدوں میں حصے دار بنے جو خالق فطرت نے ہر عورت اور مرد کے لیے مقدر کر دیا ہے۔ میں کہوں گا آپ اس معاملے میں میرے مشورے کو مزید غور وفکر کے بغیر فوراً اختیار کر لیں اور آج ہی سے اپنے گھر کو انٹیلکچول پارٹنر شپ کا ایک نمونہ بنا دیں۔ اس سے ایک طرف خود آپ کو غیر معمولی فائدے حاصل ہوں گے اور اس کے ساتھ آپ کا یہ عمل دوسروں کے لیے ایک قابل تقلید مثال بن جائے گا۔ انٹیلکچول پارٹنرشپ کے اس اصول کے بہت سے فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ کا گھر آپ کے لیے ایک جائے سکون (peace haven) بن جاتا ہے۔ نئی دہلی، ۳۰ نومبر ۲۰۰۵ دعا گو وحیدالدین

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page