ایک خط اور اس کا جواب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۳۲
ایک خط اور اس کا جواب
ایک ضروری بات یہ عرض کرنا ہے کہ ماہ نامہ الرسالہ کے شمارہ نومبر 2005 میں جو مضمون جنت کے دروازے پر کے عنوان سے ہے شاید سہو اس میں کئی باتیں نظر انداز ہو گئی ہیں۔ ۱۔ اس میں جنت کو انسانی تہذیب کا ایک ارتقائی مرحلہ بتایا گیا ہے۔ جو انسانی ہاتھوں سے وجود میں آنے والا ہے۔ اور یہ سب سائنسی کرشموں سے ہوگا۔ گویا جنت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو کبھی بھی سائنسی سہولتوں کے ذریعے زمین کو جنت کی طرح بنا لیں۔ اس خیال کے تحت تو آج بھی بہت سے لوگ جنت ہی کے مالک کہلائیں۔ اور ماضی میں بھی رہے۔ اس مسئلے کا تعلق اللہ کی ہدایات اور قرآن اور رسالت سے قطعاً نہیں رہا۔
۲۔ برے لوگ الگ کر دیئے جائیں گے یعنی برے لوگ وہ ہوں گے جو اس سائنسی انقلاب میں کوئی رول ادا نہیں کر پائیں گے۔ اس طرح کفر و ایمان کے مسئلے کے بجائے مسئلہ سائنسی سہارے کا ہو گیا۔
۳۔ بعث بعد الموت کا مسئلہ سرے سے ختم ہی ہو گیا۔
۴۔ اس قسم کی سائنسی جنت میں اللہ کے وہ بندے جن میں انبیاء و رسل بھی ہیں وہ کیسے داخل ہوں گے۔
۵ قرآن کا و ما أمر الساعة الا كلمح البصر کے عقیدے کا کیا ہوگا۔
۶ حشر ونشر نامۂ اعمال حساب و کتاب اور برزوا لله الواحد القهار اور کل يأتيه يوم القيامة فرداً۔ اور نفخ في الصور وغیرہ ان تمام آیات کا کیا ہوگا۔
۷۔ زندگی جو موجودہ ہے، اس کا ابتلاء کے لیے عارضی ہونا اور اس دنیا میں اہل جنت کا سلیکشن ہونا جو سب کچھ آپ نے لکھا ہے اس کا کیا ہوگا۔ اور کیا سائنسی جنت جو انسان کے موجودہ تسلسل سے وجود میں آئے گی ۔ اس میں موت و پیدائش کا موجودہ تسلسل رہے گا یا ختم ہو جائے گا۔ یہ سب باتیں اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues