Al-Risala · April 2006 · page 33

ایک خط اور اس کا جواب

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۳۳

انداز میں عنایت اللہ خاں مشرقی نے بھی لکھی ہیں۔ اسی الرسالہ کے دوسرے مضامین بھی اس مضمون کی نفی کرتے ہیں۔ یہ مضمون کیسے تحریر ہو گیا خدا کے لیے فوری طور پر اس پر غور فرمائیں۔ ایک اور مضمون لکھا جائے اور اس میں بات واضح کی جائے اور اس بات کو تمثیل قرار دیا جائے۔ (ڈاکٹر حمید اللہ ندوی، بھوپال) جواب آپ کے اس خط (۲۶ اکتوبر ۲۰۰۵) میں الرسالہ نومبر ۲۰۰۵ کے بارے میں منفی تاثر کا اظہار کیا گیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ اسی پرچے کو پڑھ کر بہت سے لوگوں نے برعکس طور پر نہایت مثبت تاثر قبول کیا ہے۔ کئی ہندوؤں نے اس مضمون کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر مزید اسلامی لٹریچر کے مطالعے کی خواہش ظاہر کی۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ اس کو پڑھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں جنت کے دروازے پر پہنچ گیا ہوں، وغیرہ۔

۱۹ نومبر ۲۰۰۵ کی صبح کو ، دہلی میں میرے دفتر میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو مہتاب احمد صاحب بول رہے تھے۔ ضلع بجنور کے دھام پور میں رہتے ہیں۔ (361-01344:Tel)

انھوں نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا: مجھے آپ کی تحریروں نے خدا سے ملا دیا۔ الرسالہ (نومبر ۲۰۰۵) کو پڑھ کر آپ کے لیے میرے دل سے بہت زیادہ دعائیں نکلیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں جدید ذہن کو مطمئن کرنے کے لیے آپ کی تحریریں بہت مؤثر ہیں۔ روایتی قسم کے لکھنے والے آج کے ذہن کو مطمئن نہیں کر سکتے تھے۔ یہ کام صرف آپ کی تحریریں کر رہی ہیں۔ آپ الرسالہ کے مذکورہ مضمون کو دوبارہ پڑھیں تو مجھے یقین ہے کہ آپ کا اشکال اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ آپ یقینی طور پر یہ جان لیں گے کہ عنایت اللہ خاں مشرقی کی بات اور الرسالہ کی بات ایک دوسرے سے اتنی زیادہ مختلف ہے کہ دونوں کو ایک کہنا، آدمی کو مائنس مارکنگ کا مستحق بناتا ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس مضمون کو دوبارہ تمثیل کے طور پر لکھنا چاہیے۔ میں عرض کروں گا کہ نومبر ۲۰۰۵ کے الرسالہ میں چھپنے والا یہ مضمون خود ہی ایک تمثیلی مضمون ہے۔ اس میں ایک سے زیادہ بار گویا کہ کا لفظ آیا ہے۔ یہ لفظ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ یہ مضمون بطور تمثیل ہی لکھا گیا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page