ایک خط اور اس کا جواب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۳۴
نہایت واضح ہے کہ اس مضمون کا مقصد منتشلک ذہن کے لیے آخرت کی جنت کو’’ قابل فہم‘‘ بنانا ہے۔ اس مضمون میں کہیں بھی’’ سائنسی جنت‘‘ یا’’ انسان کی تعمیر کردہ جنت‘‘ کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس کے برعکس، اس میں صاف طور پر یہ بات موجود ہے کہ یہ جنت براہ راست خدا کے حکم سے بنے گی (الزمر : ٦٩) اور خدا کے’’ فرشتے‘‘ اس کو اعلیٰ صورت میں بنائیں گے۔ اس مضمون میں بار بار قرآن کی آیتوں کے حوالے دیے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مضمون قرآنی آیات کی تفسیر کے طور پر لکھا گیا ہے نہ کہ کسی الگ نظریے کے تحت۔ اس مضمون کو سمجھنے کے لیے نہ صرف مضمون کو گہرائی کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کی محولہ آیتوں کا از سر نو مطالعہ کیا جائے۔ الرساله ماہ نومبر ٢٠٠٥ میں شائع شدہ مضمون کا مقصد خود جنت کو بتانا نہیں ہے بلکہ ایک معلوم واقعے کو لے کر غیر معلوم واقعے پر استدلال قائم کرنا ہے۔ یعنی مشہود (seen) کے حوالے سے غیر مشہود (unseen) کو قابل فہم بنانا۔ مذہبیات میں یہ ایک معروف استدلالی اسلوب ہے۔
استدلال کا یہ اسلوب خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر بعث بعد الموت کو ثابت کرنے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ زمین پر ہونے والے ایک طبیعی واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ خشک زمین پر بارش ہوتی ہے اور پھر وہاں سر سبز درخت اور پودے اُگ آتے ہیں۔ خشک زمین پر سبزہ اُگنے کے اس واقعے کو لے کر فرمایا کہ: اسی طرح مردہ انسان دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ (كذلك النشور، فاطر : ٩، كذلك الخروج، ق: ١١)
اس طرح کی آیتوں پر غور کیجیے۔ خشک زمین سے پودے کا اُگنا واضح طور پر اسباب طبیعی کے تحت پیش آنے والا واقعہ ہے۔ اس کے برعکس، بعث بعد الموت ایک ایسا واقعہ ہے جو اسباب طبیعی کو توڑ کر براہ راست حکم خداوندی کے تحت پیش آئے گا۔ اس تشبیہہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں واقعے کی نوعیت بالکل ایک ہے۔ یہ تشبیہہ صرف تقریب فہم کے لیے ہے نہ کہ اصل صورت حال کو اس کی حقیقی نوعیت کے اعتبار سے بتانے کے لیے۔ قرآن کی اس مثال سے مذکورہ معاملے کو بخوبی طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک لفظ میں، یہ اسلوب بیان دعوتی ضرورت کے طور پر ہے نہ کہ بیان حقیقت کے طور پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues