Al-Risala · April 2006 · page 35

ایک خط اور اس کا جواب

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۳۵

الرساله نومبر ۲۰۰۵ میں جنت کے بارے میں جو مضمون شائع ہوا ہے وہ جنت کی اصل حقیقت کو بتانے کے لیے نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جدید ذہن کے لیے وقوع جنت کا امکان (probability) ثابت کیا جائے۔ اس مضمون کا مقصد جنت کی واقعی حیثیت کو بتانا نہیں ہے بلکہ منکر اور متشلک لوگوں کے لیے جنت کے تصور کو قابل فہم بنانا ہے۔ اس مضمون کا مقصد جنت پر سائنسی استدلال ہے نہ کہ خود جنت کو سائنسی جنت ثابت کرنا۔ اس مضمون کا مقصد صرف یہ ہے کہ متشلک ذہن، اسلامی نقطہ نظر کو قابل توجہ سمجھے اور پھر مزید مطالعہ کر کے وہ حقیقی تصورِ جنت کو دریافت کر سکے۔ قدیم مکہ میں ایک مشرک پہلوان تھا اُس کا نام رُکانہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرتا تھا۔ رسول اللہ نے ایک بار اس سے کہا کہ اے رُکانہ! اگر میں تم کو کشتی میں پچھاڑ دوں تو کیا تم مجھے پیغمبر مان لو گے۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ (قال رسول الله ﷺ: أفرأيت إن صرعتك أتعلم أنّ ما أقول حق ، قال : نعم ! ) اس کے بعد دو بار کشتی ہوئی اور رسول اللہ نے دونوں بار رُکانہ کو پچھاڑ دیا۔ (سیرت ابن ہشام، جلد اول، صفحہ ۶۱۵)

اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ جو شخص کسی پہلوان کو کشتی میں پچھاڑ دے وہ پیغمبر ہے۔ یہ صرف تقریب فہم کی بات تھی۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ رُکانہ کے ذہنی سانچے کے مطابق ، اس کو نبوت کے معاملے پر سوچنے کے لیے مجبور کیا جائے۔ یہ بات مخاطب کی نسبت سے تقریب فہم کے لیے تھی نہ کہ خود اصل واقعے کی نسبت سے حقیقت نبوت کا بیان۔

قدیم روایتی منطق میں استدلال کا مطلب صرف یہ ہوتا تھا کہ انکار کے مقابلے میں اقرار کو ثابت کرنا۔ اب سائنسی منطق کے مطابق ، استدلال کا مطلب یہ ہو گیا ہے کہ کسی واقعے کے امکان (probability) کو ثابت کیا جائے۔ مذکورہ مضمون کو اسی اعتبار سے دیکھنا چاہیے۔ مذکورہ مضمون کے مخاطب مومنین جنت نہیں ہیں بلکہ اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں جنت کے بارے میں شکوک اور شبہات ہیں۔

جہاں تک جنت کے بارے میں میرے ذاتی نقطہ نظر کی بات ہے۔ اس میں کسی کے لیے شک

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page