Al-Risala · April 2006 · page 37

ایک خط اور اس کا جواب

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۳۷

ایک خط

برادر محترم مولانامحی الدین غازی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ ماہنامہ رفیق منزل (نئی دہلی) کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۵ دیکھا۔ اس شمارے میں آپ کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے ـــــ فقہ الاقليات: ایک تعارف ۔ اس مضمون کو دیکھنے کے بعد میں آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ اس سلسلے میں مجھے آپ سے دو باتیں کہنا ہے۔

موجودہ زمانے میں فقہ الاقلیات کے نام سے ایک نیا موضوع سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں بہت سی تحریریں اردو، عربی اور انگریزی میں شائع ہوئی ہیں۔ ان تحریروں میں اکثر تحریروں سے مجھے واقف ہونے کا موقع ملا ہے۔ اس سلسلے میں اپنا تاثر آپ تک پہنچانے کے لیے آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ غیر مسلم ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کا مطالعہ ’’اقلیت‘‘ کی حیثیت سے کرنا، میرے نزدیک ، اصولی طور پر ہی غلط ہے۔ مسلمان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ داعی گروہ ہیں نہ کہ محض اقلیتی یا اکثریتی گروہ۔ مسلمان کو داعی گروہ کا درجہ دیا جائے تو اس سے مسلمانوں کی دعوتی ذمے داری سامنے آتی ہے۔ اس کے برعکس ، اگر مسلمانوں کو معروف معنوں میں اقلیت کہا جائے تو اُس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان ایک ایسا گروہ ہیں جن کو غیر مسلم اکثریت کی طرف سے کچھ مسائل درپیش ہیں، اور ضرورت یہ ہے کہ ان مسائل کو حل کیا جائے ۔ مثلاً دینی شناخت کو برقرار رکھنے کا مسئلہ۔ گویا کہ یہ مسلمان صرف ایک متاثر گروہ ہیں نہ کہ ایک مؤثر گروہ۔

اقلیتی مسائل کا یہ نظریہ مسلمانوں کے اندر وہ ذہن بناتا ہے جس کو قرآن کی تعبیر کے مطابق، غیر ناصح اور طالب اجر ذہن کہا جا سکتا ہے، اور اس قسم کا ذہن یقینی طور پر اسلامی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ ذہن مسلمانوں کے اندر بیک وقت دو نقصان کا سبب بنتا ہے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے اندر فکری ارتقاء (intellectual development) کا عمل رُک جاتا ہے، کیوں کہ فکری ارتقاء کھلے ماحول میں ہوتا ہے نہ کہ بندش کے ماحول میں۔ اور اپنے آپ کو اقلیت سمجھنا، آدمی کے اندر کھلی تفکیر کا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page