ایک خط اور اس کا جواب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۳۸
مزاج ختم کر دیتا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس قسم کا ذہن حقیقی دعوتی عمل کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ اقلیت کا تصور حریفانہ نفسیات پیدا کرتا ہے۔ جب کہ دعوت کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان دوستانہ تعلق پایا جارہا ہوں۔
اس کی ایک مثال مشہور عرب عالم ڈاکٹر یوسف القرضاوی ہیں۔ میں نے ان کی تحریریں پڑھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کا حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے اپنے مسائل کا معاملہ ہو تو وہ تیسیر کے اصول پر فتویٰ دیتے ہیں، اور اگر غیر مسلموں کی نسبت سے کوئی معاملہ ہو، مثلاً غیر مسلموں کے خلاف مسلمانوں کی خود کش بم باری، تو وہ برعکس طور پر، تعسیر کے اصول پر اپنا فتویٰ جاری کرتے ہیں۔ یہ فرق اس لیے ہے کہ اس قسم کے لوگ اپنے مذکورہ ذہن کی بنا پر مسلم کے بارے میں ہمدرد، اور نان مسلم کے بارے میں غیر ہمدرد بن جاتے ہیں۔
آپ جیسے لوگ ''اقلیت'' کے نام سے مسلمانوں کو جو سوچ دے رہے ہیں اُس کا یہ نتیجہ ہے کہ ساری دنیا میں مسلمانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر، شکست خوردہ ذہنیت پرورش پا رہی ہے۔ ہر معاملے میں اُن کی سوچ غیر تعمیری سوچ بن گئی ہے۔ مگر قرآن ''اقلیت'' کو جو ذہن دیتا ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ قرآن ایسے لوگوں کے اندر مفتوح نفسیات کے بجائے فاتح نفسیات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے: كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة بإذن الله (البقرۃ: ۲۴۹)
اس آیت میں اذن سے مراد خدا کا قائم کیا ہوا قانونِ فطرت ہے۔ یہ دنیا جس قانون کے تحت چل رہی ہے وہ یہ ہے کہ سماج میں جو اقلیتی گروہ ہو اُس کے اندر تحدّ یاتی حالات کے نتیجے میں تخلیقی صلاحیتیں ابھریں ۔ وہ بڑے بڑے کام کرنے کے قابل ہو سکے۔ اس اصول کا مظاہرہ خود اسلام کی ابتدائی تاریخ میں ہوا ہے۔ قدیم مکہ میں جن لوگوں نے اسلام کی صورت میں سچائی کو دریافت کیا وہ عددی اعتبار سے وہاں اقلیتی گروہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر اسی اقلیتی گروہ نے وہ عظیم کارنامہ انجام دیا جس کی کوئی دوسری مثال معلوم تاریخ میں نہیں ملتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues