Al-Risala · April 2006 · page 39

ایک خط اور اس کا جواب

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۳۹

اس سلسلے میں ایک اور بات نہایت قابل ذکر ہے۔ وہ یہ کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی، ڈاکٹر طہٰ جابر علوانی، خالد محمد عبدالقادر اور اس طرح کے دوسرے لوگ اس موضوع پر جس انداز سے لکھتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک یہ مسئلہ صرف مسلم اقلیت کا مسئلہ ہے، مگر یہ بات درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں یہ مسئلہ مسلم اکثریت کے لیے بھی اُسی طرح سنگین مسئلہ ہے جس طرح وہ مسلم اقلیت کے لیے ایک سنگین مسئلہ نظر آتا ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ مسلم اقلیت کے علاقوں میں یہ مسئلہ اگر ہمسائیگی کے نتیجے میں پیش آیا ہے تو مسلم اکثریت کے علاقوں میں خود مسلمانوں نے اس کو باہر سے امپورٹ کر لیا ہے۔ شاعر کے الفاظ میں:

کیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد، کہ ہم خود اٹھا لاتے ہیں، گر تیر خطا ہوتا ہے میں نے ایک عربی جریدے میں ایک مضمون پڑھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ مسلم اقلیتوں کو یہ خطرہ درپیش ہے کہ وہ غیر مسلم تہذیب میں گھُل مل جائیں (الأقليات المسلمة تواجه خطر الذوبان) یہ مضمون ہندوستان جیسے ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کو سامنے رکھ کر لکھا گیا تھا۔ مگر ذوبان‘‘ کا یہی خطرہ خود مسلم اکثریت کے علاقوں میں بھی یکساں طور پر موجود ہے۔ وہ اس طرح کہ ایسے علاقے کے مسلمان بہت بڑے پیمانے پر مغربی کلچر کو خود مغربی ملکوں سے در آمد کر رہے ہیں اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مغربی کلچر کسی بھی حال میں انڈین کلچر سے کم ضرر رساں نہیں۔ عرب اور دوسرے مسلم اکثریت کے اہلِ علم اس موضوع پر اس طرح لکھتے ہیں جیسے وہ خود اس فتنے سے محفوظ ہوں۔ حالاں کہ جاننے والے جانتے ہیں کہ غیر مسلم تہذیب کا فتنہ بارش کی طرح خود اُن کے اوپر بھی برس رہا ہے، اور یہ تمام لوگ عملاً اس میں غرق ہو چکے ہیں۔

وہ چیز جس کو اقلیت کا مسئلہ کہا جاتا ہے، وہ عملی طور پر سو سال سے بھی زیادہ مدت سے دنیا میں موجود ہے۔ لیکن فقہ الاقلیات کی اصطلاح اکیسویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئی۔ ابتداء اس طرزِ فکر کا آغاز مغربی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کے مسائل سے ہوا۔ مثلاً ذبیحہ اور غیر ذبیحہ کا مسئلہ، اوقاتِ عبادت کا مسئلہ، نکاح و طلاق کا مسئلہ، بینکوں سے مالی لین دین کا مسئلہ وغیرہ۔ گویا کہ فقہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page