ایک خط اور اس کا جواب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۴۰
اقلیتوں کا موضوع حالات کے ردِ عمل کے تحت وجود میں آیا، وہ کسی مثبت فکر کی پیداوار نہ تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ و تابعین بڑی تعداد میں عرب علاقے سے نکلے اور بیرونی ملکوں میں جا کر آباد ہو گئے ۔ ان ملکوں میں اُس وقت غیر مسلموں کی اکثریت تھی اور صحابہ و تابعین کی حیثیت اقلیت کی۔ مگر اُس وقت ایسا نہیں ہوا کہ ان کا مطالعہ فقہ الاقلیات کے تحت کیا جائے ۔ ان کے لیے بھی بلا شبہ وہ جزئی مسائل پیدا ہوئے جو آج مسلم اقلیتوں کی نسبت سے پیدا ہوئے ہیں۔ مگر اُس وقت کے علماء اور فقہاء نے ان کے معاملات کے مطالعے کے لیے فقہ الاقلیات کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے کی فقہی کتابوں میں سے کسی بھی کتاب میں فقہ الاقلیات کا باب موجود نہیں۔
اس کا سبب یہ ہے اس زمانے کے صحابہ و تابعین جس ذہن کے تحت بیرونی ملکوں میں جا کر بسے تھے، وہ مکمل طور پر مثبت قسم کا دعوتی ذہن تھا۔ مثبت ذہن وہ ہے جو اصولِ عام کے تحت بنے، اور رَدِ عمل کا ذہن وہ ہے جو وقتی حالات کے تحت بنے۔ اس مثبت ذہن کی بنا پر ایسا ہوا کہ ان کی ساری سوچ دعوت رُخی (Dawah Oriented) سوچ بنی۔ بقیہ تمام چیزیں ان کے لیے سیکنڈری درجے میں چلی گئیں ۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے کی مسلم اقلیتیں صرف اپنے ’’مُلّی‘‘ مسائل کے حل میں مصروف ہے۔ جو کہ آج تک حل نہیں ہوئے اور نہ وہ کبھی حل ہونے والے ہیں ۔ اس کے برعکس، صحابہ و تابعین کے دعوتی مزاج کا یہ نتیجہ ہوا کہ انھوں نے بیرونِ عرب کے ان ملکوں کو اسلامائز کر دیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ جغرافی علاقہ وجود میں آیا جس کو بلادِ عرب یا بلادِ مسلمین کہا جاتا ہے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ فقہ الاقلیات کی اصطلاح ایک مبتدعانہ اصطلاح ہے۔ صحابہ و تابعین کے نمونے کو دیکھتے ہوئے صحیح بات یہ ہوگی کہ فقہ الدعوة کی اصطلاح وضع کی جائے۔ اور اس موضوع کے تحت اس بات کا مطالعہ کیا جائے کہ صحابہ و تابعین نے کس طرح پورے پورے علاقے کے لوگوں کو اسلام میں داخل کر دیا۔ غیر مسلم ملکوں میں آباد مسلمانوں کے لیے فقہ الاقلیات کی اصطلاح ایک تباہ کن اصطلاح ہے۔ یہ اصطلاح ان مسلمانوں کے اندر ایک غیر مطلوب قومی ذہن
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues