ایک خط اور اس کا جواب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۴۱
بناتی ہے۔ جب کہ فقہ الدعوہ کی اصطلاح ان کے اندر داعیانہ ذہن بنانے والی ہے جو کہ ایک آفاقی ذہن ہے نہ کہ کسی قسم کا محدود ذہن۔
آج کل مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والوں میں ایک بات بہت عام ہے۔ وہ بہت جوش کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل دین ہے (الإسلام دین شامل و کامل) مگر عجیب بات ہے کہ ان لوگوں کو قرآن میں مفروضہ طور پر سیاسی ہنگامہ آرائی کے لیے تو آیتیں مل جاتی ہیں مگر مسلم اقلیت کی رہنمائی کے لیے انھیں قرآن میں کوئی آیت نہیں ملتی۔ یہ لوگ اپنی نام نہاد انقلابی سرگرمیوں کے لیے تو فقہ السیاسۃ کا موضوع ایجاد کر لیتے ہیں مگر مسلمانوں کی دعوتی ذمے داریوں کو بتانے کے لیے انھیں فقہ الدعوہ کی تعلیمات قرآن اور حدیث میں دکھائی نہیں دیتیں۔
قرآن کو آپ اس نظر سے پڑھیں تو آپ کو قرآن میں اس موضوع پر واضح رہنمائی ملے گی۔ مثال کے طور پر قرآن میں سورہ البقرہ کی آیت ۲۲۹ ، جس کا حوالہ اس تحریر میں اوپر آ چکا ہے۔ قرآن کی اس آیت کی روشنی میں مسلم اقلیات کے مسئلے پر غور کیجیے تو اس سے مثبت قسم کا ایک صحت مند ذہن بنتا ہے۔ یہ آیت ان کو دفاعی نفسیات سے اٹھا کر اقدام کی نفسیات عطا کرتی ہے۔ اس آیت میں انھیں تعمیر مستقبل کا ذہن ملتا ہے نہ کہ صرف تحفظ حال کا ذہن۔ یہ آیت انھیں یاد دلاتی ہے کہ وہ اپنے سماج میں نافع بن کر رہ سکتے ہیں۔ وہ اپنے سماج میں صرف رسیونگ اینڈ پر نہیں ہیں۔ وہ اپنے سماج میں دینے والے گروہ (giver group) بن کر رہ سکتے ہیں نہ کہ صرف لینے والے گروہ (taker group)۔ قرآن کی یہ آیت اُن کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا کرنے والی ہے جس کو تخلیقیت (creativity) کہا جاتا ہے۔
میرے نزدیک، فقہ الاقلیات کے نام سے نئی اصطلاح وضع کرنا ایک ناسمجھی کی بات ہے۔ جب قرآن میں اس سلسلے میں واضح ہدایت موجود ہے اور جب صحابہ و تابعین کی زندگی میں اس سلسلے میں واضح تاریخی نمونہ پایا جاتا ہے تو ہم کو چاہیے کہ اسی کی رہنمائی میں مسلمانوں کا رویہ معلوم کریں نہ کہ غیر ضروری طور پر ایک نئی اصطلاح وضع کر کے مسلمانوں کو کنفیوژن میں مبتلا کر دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues