ایک خط اور اس کا جواب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۴۲
دوسری بات کا تعلق آپ کی ذات سے ہے۔ آپ نے اپنے اس مضمون میں اُس غیر اسلامی فعل کا ارتکاب کیا ہے جس کو قرآن میں کتمانِ حق کہا گیا ہے۔ وہ یہ کہ آپ نے فقہ الاقلیات کے موضوع پر لکھتے ہوئے ان لوگوں کا تذکرہ تو نمایاں انداز میں کیا ہے جو غیر مسلم اکثریت کے علاقے میں رہنے والے مسلمانوں کو صرف ’’اقلیت‘‘ کا درجہ دیتے ہیں اور اقلیت کی حیثیت سے ان کے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں، مثلاً ڈاکٹر یوسف القرضاوی اور ڈاکٹر طہ جابر علوانی وغیرہ۔ مگراسی کے ساتھ آپ نے اس موضوع کے ایک اہم جُز کا سرے سے نام ہی نہیں لیا، اور وہ ہے الرسالہ کا نقطۂ نظر۔ یہ ایک معلوم اور معروف واقعہ ہے کہ اقلیات کے موضوع پر یہاں ایک اور مستقل نقطۂ نظر موجود ہے۔ اور وہ الرسالہ کا نقطۂ نظر ہے۔ ماہنامہ الرسالہ جو ۱۹۷۶ سے شائع ہو رہا ہے، اس میں بار بار نہایت واضح انداز میں یہ بات کہی گئی ہے کہ غیر مسلم اکثریت کے علاقے میں جو مسلمان رہتے ہیں ان کی حیثیت اسلامی تعلیم کے مطابق، اقلیتی گروہ کی نہیں ہے بلکہ ان کی حیثیت داعی گروہ کی ہے۔ گویا کہ ہندوستان دارِ دعوت ہے نہ کہ دارِ غیر مسلمین۔ اقلیتی گروہ کا لفظ یہ تصور دیتا ہے کہ ان علاقوں کے مسلمان دفاعی پوزیشن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، داعی گروہ کا لفظ مسلمانوں کو اقدامی گروہ کا درجہ دے رہا ہے۔ پہلا نقطۂ نظر اگر منفی نقطۂ نظر ہے تو دوسرا نقطۂ نظر مثبت نقطۂ نظر۔ پہلا نقطۂ نظر اگر سلبی نقطۂ نظر کی حیثیت رکھتا ہے تو دوسرے نقطۂ نظر کی حیثیت ایجابی نقطۂ نظر کی ہے۔ پہلا نقطۂ نظر اگر قومی نقطۂ نظر ہے تو دوسرا نقطۂ نظر آفاقی نقطۂ نظر۔
’’فقہ الاقلیات‘‘ کا معاملہ میرے نزدیک کوئی سادہ معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ اور اس سنگینی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کے اندر غیر صحت مند ذہن بنتا ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی گروہ کے لیے اس سے زیادہ تباہ کُن کوئی چیز نہیں کہ اُس کے اندر غیر صحت مند فکر پیدا کی جائے۔
نئی دہلی ۳۰ نومبر ۲۰۰۵ دعا گو وحیدالدین
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues