Al-Risala · April 2006 · page 43

ایک خط اور اس کا جواب

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۴۳

خبرنامہ اسلامی مرکز ۱۷۴

۱۔ جین ٹی وی (نئی دہلی) نمائندہ مسٹر انظر نے ۵ اکتوبر ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا تعلق روزہ اور رمضان سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ قرآن کے مطابق، قرآن کو رمضان کے مہینے میں اتارا گیا، اور پھر اس ماہ رمضان میں روزے فرض کیے گئے۔ اس لیے روزہ اور قرآن میں گہری مناسبت ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ مخصوص عبادت میں مشغول ہو کر زیادہ سے زیادہ قرآن کا مطالعہ کیا جائے۔ اور یہ سمجھا جائے کہ قرآن کس قسم کا انسان بنانا چاہتا ہے اور پھر ویسا ہی انسان بننے کی کوشش کی جائے۔

۲۔ ملیالم زبان کے پندرہ روزہ میگزین Thejus کے نمائندہ مسٹر ایم نوشاد نے اپنے میگزین کے لیے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ۶؍اکتوبر نومبر ۲۰۰۵ کو لیا گیا۔ انٹرویور ملاپورم(Malappuram) (Malappuram) میں رہتے ہیں۔ انٹرویو دہلی میں ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں کے ملکی اور غیر ملکی مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی سوچ ردعمل کے تحت بنی ہے۔ مثبت غور و فکر کے تحت ان کی سوچ نہیں بنی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی اصلاح کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ ان کی منفی سوچ کو مثبت میں تبدیل کیا جائے۔ اسی سے ان کی دینی اصلاح ہوگی اور اسی سے ان کے دنیوی مسائل حل ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ رزرویشن مسلمانوں کے مسائل کا حل نہیں ہے، یہ دور مقابلے کا دور ہے۔ مسلمانوں کی خیر خواہی یہ ہے کہ مسلم نو جوانوں میں یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ مقابلے کا سامنا کر کے آگے بڑھیں۔ رزرویشن کا مطلب یہ ہے کہ مقابلے کا سامنا کیے بغیر ترقی کی جائے۔ مگر موجودہ حالات میں رزرویشن کا فارمولا سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔

۳۔ ای۔ ٹی۔ وی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر قاسم نے ۲۶ اکتوبر کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا تعلق روزے سے تھا۔ احادیث کے حوالے سے بتایا گیا کہ روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ وہ تقویٰ کی ٹریننگ ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو کہ وہ اپنی خواہشات پر کنٹرول کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ روزہ دراصل اسی چیز کی ایک سالانہ تربیت ہے۔

۴۔ پی۔ ٹی۔ آئی (P.T.I.) کے نمائندہ سرمیت سنگھ نے ۲۲ اکتوبر ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلیفون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق اس مسئلے سے تھا کہ حکومت سماج کے پچھڑے طبقوں کی فلاح کے لیے جو اسکیمیں چلاتی ہے، وہ سماج کے لیے کتنی مفید ہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ انڈیا جیسے ملک میں ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہاں کرپشن اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہے کہ ہر سماجی اسکیم کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ اسکیم چلانے والوں کو لوٹ کا ایک اور موقع مل جاتا ہے۔ میرے نزدیک اصل کام صرف دو ہے: ایک، یہ کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے ۔ دوسرے یہ کہ ملک میں بہترین انفراسٹرکچر تیار کیا جائے۔ یہ دونوں کام پرائیویٹ سیکٹر کے تحت انجام دیا جانا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page