Al-Risala · May 2006 · page 7

ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۷

حقیقت کی دریافت Discovering the Truth انسان ایک متلاشیِ حق حیوان ہے (Man is a truth-seeking animal)۔ میں نے خود اپنی ذات میں اس کا تجربہ کیا ہے۔ میرے اندر بچپن سے سچائی کی تلاش کا جذبہ کسی نہ کسی طرح موجود تھا۔ ۱۹۴۲ میں یہ جذبہ پوری شدت کے ساتھ ابھر آیا۔ اُس زمانے میں میرا حال یہ تھا کہ میں جنگلوں اور ویرانوں میں چلا جاتا اور تنہائی میں رو رو کر یہ کہتا کہ: ’’خداوند، تو کب آئے گا۔ میں کب تک تیرے آنے کا انتظار کروں‘‘۔

آخر کار ایک خدائی کلام میں مجھے اس کا جواب ملا۔ اس کے مطابق، خدا نے فرمایا ہے: کُنتُ كنزاً مخفيّاً فاردتُ ان أُعرف فخلقت الخلق (میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں۔ پھر میں نے انسان کو پیدا کیا)۔ اس ارشاد کے مطابق انسان کا مقصدِ وجود یہ ہے وہ اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے۔ اور اس معرفت کی قیمت میں وہ ابدی جنت میں جگہ پائے۔ موت کے پہلے کا دور حیات حصولِ معرفت کا دور ہے اور موت کے بعد کا دور حیات آرام اور راحت کی ابدی جنت کی دنیا میں زندگی گزارنے کا دَور۔

یہ معرفتِ رب کوئی سادہ چیز نہیں۔ یہ ایک مشکل ترین مہم ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ابتدائی دورِ حیات میں انسان کے رہنے کے لیے خدا نے جو دنیا بنائی وہ مکمل طور پر شبہات سے بھری ہوئی تھی۔ اس کے ہر جُز میں ایک شبہ کا عنصر (element of doubt) پایا جاتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی فکری یا عملی چیز ایسی نہیں جو شبہ سے خالی ہو۔ موت سے پہلے کے اس دَورِ حیات میں انسان کا کام یہ ہے کہ وہ شبہات کے پردے کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھے، وہ شبہات کے باوجود کامل یقین کا درجہ حاصل کرے۔ دنیا میں جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب پر شبہات کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ انسان پیدا ہوتے ہی اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page