Al-Risala · May 2006 · page 8

ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۸

آپ کو افکار کے ایک جنگل میں پاتا ہے۔ زندگی کے بارے میں مختلف قسم کے فلسفے اس کو حیرانی کا تحفہ دیتے ہیں۔ یہاں درجنوں مذاہب ہیں اور ہر مذہب اپنے بارے میں سچا ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ ہر انسان اپنے اندر جذبات و خواہشات کا ایک طوفان لیے ہوئے ہے جو خالص عقلی رویہ اختیار کرنے میں مسلسل رکاوٹ بنتا ہے۔ اسی طرح ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ خاندانی اور سماجی بندھن میں پھنسا ہوا ہے۔ ہر آدمی مفادات کے خول میں جی رہا ہے۔ ہر آدمی کی عادتیں اور رجحانات اس کو اپنے ساتھ باندھے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی مال و اولاد، اور رشتے داروں کے جال میں اس طرح پھنسا ہوا ہے کہ اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔

ایسی حالت میں سچائی کی معرفت صرف اُس انسان کو حاصل ہوتی ہے جو اپنے اندر موضوعی طرزِ فکر (objective thinking) کی تشکیل کر سکے۔ وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کر سکے کہ وہ شبہات کے پردے کو پھاڑ کر حق کو حق کے روپ میں دیکھے اور باطل کو باطل کے روپ میں دیکھے۔ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے جیسا کہ وہ ہیں۔

اسی کے ساتھ اس کے اندر وہ صلاحیت ہو جس کو انقلابی صلاحیت (revolutionary nature) کہا جاتا ہے۔ یعنی جب ایک بات سمجھ میں آجائے تو کسی بھی مصلحت کی پَروا کیے بغیر وہ کھلے طور پر اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنی زندگی کا رخ بدل کر دریافت شدہ حقیقت کو اپنی زندگی کا نشانہ بنالے۔ شبہات کے اس پردے کو پھاڑنے کا ذریعہ صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے خالق کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کو جاننا۔ یہ تخلیقی منصوبہ چیزوں کی اس طرح تو جیہہ کر دیتا ہے کہ شبہات کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور حقیقت اسی طرح نمایاں ہو کر سامنے آجاتی ہے جس طرح کالے بادل چھٹنے کے بعد روشن سورج سامنے آجاتا ہے۔

خدا کا تخلیقی منصوبہ کیا ہے۔ اس تخلیقی منصوبے کا کلیدی پہلو یہ ہے کہ انسان کو ہر قسم کی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اور پھر اس کو مکمل طور پر آزاد کر دیا گیا ہے۔ اب انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو صرف صحیح طور پر استعمال کرے، وہ اپنی آزادی کا کبھی غلط استعمال (misuse) نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page