Al-Risala · May 2006 · page 9

ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۹

اِسی استعمال کے اوپر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ آزادی کا صحیح استعمال کرنے والوں کے لیے جنت ہے اور آزادی کا غلط استعمال کرنے والوں کے لیے جہنم۔ اِس آزادی کا ایک پہلو یہ ہے کہ اِس سے مسابقت اور چیلنج پیدا ہوتا ہے اور مسابقت اور چیلنج کے بغیر کوئی ترقی ممکن نہیں۔ فلسفے میں انسان اور خدا کی نسبت سے سب سے زیادہ قابل بحث سوال وہ رہا ہے جس کو بُرائی کا مسئلہ (problem of evil) کہا جاتا ہے۔ یعنی انسانی دنیا میں اتنی زیادہ جومصیبت (suffering) کیوں ہے۔ خدا اگر مکمل خوبی ہے تو اس نے ایسی دنیا کیوں بنائی جہاں انسان طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔

خدا کے تخلیقی نقشے کو سمجھنے کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ یہ تمام مصیبتیں کسی نہ کسی پہلو سے آزادی کے غلط استعمال کی قیمت ہیں۔ یہ قیمت بظاہر ایک بہت سخت قیمت ہے لیکن خدا کی طرف سے یہ خوش خبری ہے کہ موت کے بعد جب يوم الحساب (Day of Judgement) آئے گا تو خدا کسی انسان کو اس کے صرف اُس عمل پر پکڑے گا جس میں یہ ثابت ہو کہ آدمی نے اپنی ملی ہوئی آزادی کا استعمال کیا تھا۔ اس کے سوا خالق کے تخلیقی نقشے کی بنا پر کسی کو مصیبت پیش آئے گی اُس کے لیے ایسی تلافی (compensation) کا انتظام کر دیا جائے گا کہ وہ بلا اشتباہ یہ سمجھ لے گا کہ اس کے ساتھ جو ہوا وہ عین انصاف کا تقاضا تھا۔ مزید یہ کہ یہ مصیبت ایک اعتبار سے شاک ٹریٹمنٹ ہے (Shock treatment) ہے۔ کیوں کہ وہ انسان کے لیے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ بنتی ہے۔ سفرنگ کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہ طریقہ کافی نہیں ہے کہ اپنے ذہنی قیاس کے تحت اس پر رائے قائم کرنے کی کوشش کی جائے ۔ زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کو تاریخ انسانی کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی ترقی کے لیے زیادہ بڑا عامل آرام نہیں ہے بلکہ مصیبت ہے۔ آرام میں انسان کی صلاحیتیں مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، مصیبتوں میں جو انسان بنتے ہیں وہ زیادہ بڑی بڑی ترقیاں حاصل کرتے ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ:

It is not ease but effort, not facility but difficulty that makes men.

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page