ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۰
مغرب کے ترقی یافتہ سماجوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہاں ایک نئی ”بیماری“ پیدا ہوئی ہے جس کو افلوئنزا (affluenza) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ خوش حال طبقے کی بیماری ہے۔ خوش حال گھرانوں میں ذہنی سورماؤں کے بجائے ذہنی بونے (intellectual dwarf) بن رہے ہیں۔ ان کا آئی کیو (IQ) بہت کم ہوتا ہے۔ وہ کاہل ہوتے ہیں اور کام میں حصہ نہیں لے پاتے۔ آج بھی اور پچھلی تاریخ میں ایسا ہوا ہے کہ مصیبتوں میں پلنے والے لوگوں نے بڑے بڑے کام کئے ہیں، انڈیا میں تقریباً تمام بڑے لیڈروں نے مشکل حالات میں پرورش پائی۔ اسی طرح جتنے بڑے دولت مند لوگ ہیں وہ سب غریب گھرانوں میں پیدا ہوئے اور پھر محنت کر کے ترقی حاصل کی۔
انسانی تاریخ کے ہر دور میں ایسے مفکر پیدا ہوتے رہے جنھوں نے یہ کوشش کی کہ وہ آئیڈیل انسانی سماج بنائیں یا آئیڈیل ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ ہر ایک اپنی تمام کوششوں کے باوجود صرف ایک غیر معیاری سماج بناسکا۔
تاریخ کا یہ ظاہر ہے بھی خالق کے تخلیقی منصوبے کو سامنے رکھنے سے پوری طرح سمجھ میں آ جاتا ہے۔ خالق نے موجودہ دنیا اس لیے نہیں بنائی کہ یہاں آئیڈیل سماج یا آئیڈیل ریاست قائم ہو۔ موجودہ دنیا کی محدودیت اور اس کے اندر مختلف قسم کے ڈس ایڈوانٹیج (disadvantage) کا ہونا حتمی طور پر اس امر میں مانع ہے کہ یہاں کوئی آئیڈیل سماج یا آئیڈیل ریاست قائم ہو سکے۔