بھلا وہ کلچر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱
بھلا وہ کلچر
موجودہ زمانے میں جو ترقی یافتہ کلچر ساری دنیا میں رائج ہوا ہے اس کے مختلف نام دئے جاتے ہیں—ماڈرن کلچر ،کنزیومر کلچر، میٹریل کلچر، انٹرٹینمنٹ کلچر، سیکولر کلچر، ویسٹرن کلچر وغیرہ۔ مگر زیادہ صحیح طور پر اس کا نام صرف ایک ہے اور وہ ہے بھلاوہ کلچر۔
اس کلچر نے موجودہ زمانے میں پہلی بار یہ کیا ہے کہ بہت بڑے پیمانے پر انسان کو بھلاوہ میں ڈال دیا ہے۔ آج کا انسان مختلف قسم کی نئی نئی چیزوں میں مشغول رہتا ہے۔ اس طرح اس کی زندگی میں وہ موقع ہی نہیں آتا کہ وہ حقیقتِ اعلیٰ کے بارے میں سوچ سکے۔
قدیم زمانے میں انسان کے پاس بہت سے ایسے لمحات ہوتے تھے جب کہ وہ مشغولیت سے خالی ہوتا تھا۔ ان خالی اوقات کو وہ معنویت کی تلاش میں گزارتا تھا۔ وہ اشیاء کی حقیقت پر غور کرتا تھا۔ وہ کوشش کرتا تھا کہ ظاہری دنیا کے پیچھے جو اعلیٰ حقیقت ہے اس کو سمجھ سکے۔ مگر موجودہ زمانے کی مصنوعی سرگرمیوں نے انسان کو اپنی طرف اتنا زیادہ کھینچ لیا ہے کہ کسی کے پاس بھی اب زیادہ با معنی سوالات پر غور کرنے کا وقت نہیں۔
انسانی زندگی کے بارے میں ایک سوال یہ ہے کہ مادی ضرورتوں کی تکمیل کس طرح کی جائے_ پچھلے زمانے میں یہ سوال ایک سادہ سوال کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ زندگی کی ضرورت کو فراہم کیا جاسکے۔ مگر جدید کلچر نے اس مسئلے کو بہت زیادہ بڑھایا۔ پہلے یہ سوال تھا کہ زندگی کے لیے سہولتیں کس طرح حاصل کی جائیں۔ اس کے بعد آگے بڑھ کر یہ سوال توجہ کا اصل مرکز بن گیا کہ زندگی کے عیش (luxuries) کو کس طرح فراہم کیا جائے۔ مزید آگے بڑھ کر یہ سوال یہاں تک پہنچا کہ زندگی کو کس طرح زیادہ سے زیادہ پر لطف بنایا جائے۔ انسانی خواہشوں کو کس طرح زیادہ سے زیادہ پورا کیا جائے۔ یہاں پہنچ کر انسان نے اپنی پوری زندگی صرف راحت کے مادی سامانوں کی فراہمی میں لگادی۔ اس کے پاس اس کا وقت ہی نہ رہا کہ وہ زندگی کو زیادہ با معنی بنانے کے لیے سوچے یا وہ