Al-Risala · May 2006 · page 12

بھلا وہ کلچر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲

اس کے لیے کچھ کرے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کی بنا پر ہم نے موجودہ کلچر کو بھلا وہ کلچر کہا ہے۔ انسانی زندگی کے دو پہلو ہیں۔ ایک ہے زندگی کی ضرورت، اور دوسرا ہے زندگی کا مقصد۔ موجودہ زمانے کی ترقیوں کا ایک بُرا پہلو یہ ہے کہ اس نے ضرورت کے سامان بہت زیادہ بڑھادیے اور ان سامانھوں کو بہت زیادہ خوش نما بنا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب انسان کی ساری توجہ ضرورت کی چیزوں پر لگ گئی۔ ضرورت کی فہرست اتنی زیادہ لمبی ہوگئی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ ضرورت کے سامانھوں کا حصول ہی انسان کے لیے سب کچھ بن گیا۔ پچھلے زمانے میں ضرورت کی تکمیل چند سادہ چیزوں سے ہوجاتی تھی، مگر اب اس کی فہرست اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتی۔ سامان ضرورت نے اب ایک مستقل مذہب کی صورت اختیار کرلی ہے، جس کا نام کنزیومرازم ہے۔ اس کا سنگین انجام یہ ہوا ہے کہ اب کسی انسان کے پاس مقصد حیات کے سوال پر سوچنے کا وقت نہیں۔ اب اعلیٰ مقصد ایک نامانوس لفظ بن گیا ہے۔ اس صورت حال کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کی جاسکتا ہے کہ جدید کنزیومرازم نے انسان کو حیوانی سطح پر جینے کے لیے مجبور کر دیا ہے۔ انسانیت کی اعلیٰ سطح پر جینا، اب لوگوں کے لیے ایک غیر معروف لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس صورت حال کی بھاری قیمت انسان کو یہ دینی پڑی ہے کہ اس کا ذہنی ارتقاء (intellectual development) رک گیا ہے۔ آج تقریباً تمام انسانوں کا یہ حال ہو رہا ہے کہ ان سے اُن کے پروفیشنل موضوع پر بات کیجیے تو وہ اس میں خوب ماہر دکھائی دیں گے۔ لیکن اگر ان کے پروفیشنل موضوع کے علاوہ دوسرے انسانی موضوعات پر بات کیجیے تو ایسا محسوس ہوگا گویا کہ آپ ایک نادان انسان سے بات کر رہے ہیں۔ جسمانی اعتبار سے بظاہر وہ پر رونق دکھائی دیں گے لیکن ذہنی معیار کے اعتبار سے وہ ایک بُو نا انسان معلوم ہوں گے۔

موجودہ کنزیومر کلچر کو اگر حیوانی کلچر کا نام دیا جائے تو شاید وہ غلط نہ ہوگا۔ حیوانی کلچر کے اس فروغ کا یہ سنگین نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ موجودہ زمانے کے عورت اور مرد ایک قسم کے ذہنی بونے پن (intellectual dwarfism) کا شکار ہوکر رہ گئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page