Man's freedom ends where God's domain begins.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۲
(dishonesty) پر اپنی بے زاری ظاہر کرتا ہے اور دیانت داری پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتا ہے۔ یہ ضمیر تشدد کو غیر انسانی چیز سمجھتا ہے اور امن کو ایک اعلیٰ انسانی اصول کا درجہ دیتا ہے۔ یہ ضمیر نفرت کو پست کرداری کی حیثیت دیتا ہے، اور محبت کو اعلیٰ انسانی قدر کا درجہ عطا کرتا ہے۔ یہ ضمیر غصّے کو رد کر دیتا ہے، اور معافی پر اپنی پسندیدگی کا سرٹیفکٹ عطا کرتا ہے، وغیرہ۔
اسی طرح انسان جب اپنے باہر کی دنیا کو دیکھتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ اس کے علاوہ تمام مخلوقات سختی کے ساتھ اپنے خالق کے قانون میں بندھی ہوئی ہے۔ زمین سے لے کر وسیع خلا تک، ہر چیز انتہائی ڈسپلن کے ساتھ اپنے مُفوّضہ عمل کو انجام دیتی ہے۔ کوئی چیز، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی، اس ڈسپلن سے انحراف نہیں کرتی۔ زمین کے جمادات، نباتات اور حیوانات سے لے کر خلا کے ستاروں اور سیاروں تک ہر چیز مکمل طور پر اس آفاقی ڈسپلن میں بندھی ہوئی ہے۔
یہ ڈسپلن خالق کا قائم کیا ہوا ہے۔ یہی ڈسپلن انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو بقیہ کائنات کی طرح اس کا ئناتی ڈسپلن کا حصہ بن جانا ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ کائنات کی بقیہ چیزیں مجبورانہ طورپر اس عالمی ڈسپلن میں بندھی ہوئی ہیں جبکہ انسان کو اختیارانۂ طور پر اپنے آپ کو اس ڈسپلن میں شامل کر لینا ہے۔
مثلاً شمسی نظام کے تمام سیارے (planets) سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اسی طرح انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ خالق کو اپنا مرکز و محور بنا کر اس کے گرد اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ اس دنیا کی کوئی بھی چیز ٹھہری ہوئی نہیں ہے، بلکہ یہاں کی چیز مسلسل طور پر حرکت میں ہے۔ پوری کائنات ایک عظیم کارخانے کی مانند حرکت و عمل میں مصروف ہے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں نہ شور ہے اور نہ دھواں۔ یہاں کسی بھی قسم کی کوئی کثافت نظر نہیں آتی۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کا نقشہ اس طرح بنائے کہ اس کی سرگرمیاں کسی بھی قسم کی کثافت (pollution) کا سبب نہ بنیں۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز نفع رسانی کے اصول پر قائم ہے۔ روشن سورج سے لے کر بہتے ہوئے دریا تک، اور سرسبز درختوں سے لے کر ہواؤں کے جھونکوں تک، اور پہاڑوں سے لے کر کیڑے مکوڑوں