Al-Risala · January 2006 · page 21

آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۱

سوال

آپ کا ایک خط ماہنامہ تذکیر کے مئی ۲۰۰۴ کے شمارے میں شائع ہوا ہے جو آپ نے عبدالسلام اکبانی صاحب کو لکھا ہے۔ اس میں آپ نے اس تقریر کا حوالہ دیا ہے جو آپ نے دہلی میں کانسٹی ٹیوشن کلب کے ایک سیمینار میں کی۔ اس میں آپ نے دو قومی نظریے کو علامہ اقبال اور جناح صاحب کے ذہن کی پیداوار قرار دیا اور یہ دلیل دی کہ ہر پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے’’اے میری قوم‘‘ کہا۔ یعنی حاضرین کا عقیدہ یا مذہب چاہے الگ الگ ہو، ایک بستی یا ایک جغرافیائی وحدت میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے وہ ایک قوم تھے۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ آپ کے بعد بلراج مدھوک کی تقریر تھی۔ انھوں نے دو قومی نظریے کا قرآن میں موجود ہونا بتایا کہ مسلمانوں نے یہ نظریہ قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ کہ قرآن انسانوں کے درمیان تفریق سکھاتا ہے اور یہ کہ وحید الدین صاحب قرآن کے اس چہرے پر وہائٹ واش کر رہے ہیں۔ تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے الزام لگایا کہ مدھوک صاحب نے قرآن کا کوئی حوالہ دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا۔ مدھوک صاحب سے لوگ دلیل مانگنا چاہتے تھے مگر وہ دامن چھڑا کر غائب ہو گئے۔ اس سلسلے میں بندہ کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ قرآن تو جگہ جگہ ایمان والوں کو یا ایھا الذین آمنوا اور کفر والوں کو یا ایھا الکفرون کہہ کر پکارتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کیا مومن اور فاسق برابر ہو سکتے ہیں۔ پھر قرآن خود جواب دیتا ہے ہرگز نہیں (سورہ السجدہ)۔ وہ کہتا ہے تم جس کو پوجتے ہو اس کو ہمارا رسول نہیں پوجتا اور جس کو وہ پوجتا ہے اس کو تم نہیں پوجتے۔ ہمارے رسول اور اس کے ساتھیوں کا اپنا دین خالص، اور تمہارے لیے تمہارا دین (سورہ الکفرون)۔ قرآن کہتا ہے کہ مسلمین اور مجرمین کو کیا ہم ایک سطح پر رکھیں؟ تمہیں کیا ہو گیا کیسا غلط گمان ہے تمہارا (سورہ القلم)۔ قرآن میں اللہ کا فروں کو حزب الشیطن کہتا ہے اور مومنوں کو حزب اللہ کہہ کر ان کو انعام کی بشارت دیتا ہے (سورہ مجادلہ) اور سورہ توبہ میں اعلان کرتا ہے کہ مشرکین نجس ہیں اور یہ جو اپنے آپ کو حرم کعبہ کا متولی سمجھتے تھے ان کو اگلے سال سے حرم کعبہ کے قریب بھی نہ آنے دینا اور جو ایمان نہیں لاتے ان سے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page