Man's freedom ends where God's domain begins.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۳
تک، ہر چیز کوئی مفید عمل انجام دے رہی ہے۔ اس وسیع کائنات کا ہر جزو یک طرفہ طور پر دینے والا ہے نہ لینے والا۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ اس دنیا میں اپنی زندگی کا نقشہ بنائے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بن جائے۔ ہر انسان سے دوسرے انسان کو فائدہ پہنچ رہا ہو۔ اسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ہمیشہ انجام کو سوچ کر اپنے عمل کا نقشہ بناتا ہے۔ انسان کی سوچ ایک نتیجہ رخی (result-oriented) سوچ ہے۔ انسان اسی عمل کو پسند کرتا ہے جس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے۔ انسان کی فطرت اس سے ابا کرتی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہ ہو۔ اس انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ انسان وسیع تر معنوں میں اس اصول کے مطابق اپنی زندگی کا نقشہ بنائے ۔ جس طرح وہ موت سے پہلے کے عرصۂ حیات میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی نتیجے کو سامنے رکھ کر کرتا ہے، اسی طرح وہ موت کے بعد کے عرصۂ حیات کے لیے بھی نتیجے کو معیار بنائے۔ وہ قبل از موت اپنی زندگی کی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرے جو بعد از موت عرصۂ حیات میں اس کے لیے مفید ثابت ہونے والا ہو۔
جیسا کہ معلوم ہے، ہماری دنیا کا نظام آج اور کل یا حال اور مستقبل میں بٹا ہوا ہے۔ مگر انسان کے سوا اس دنیا میں جو مخلوقات ہیں وہ سب کی سب آج میں عمل کرتی ہیں۔ آج یا حال کے سوا ان کے اندر زندگی کا کوئی تصور نہیں۔ کل (tomorrow) کا لفظ صرف انسان کی ڈکشنری میں پایا جاتا ہے۔ دوسری مخلوقات کی ڈکشنری کل کے لفظ سے خالی ہے۔
یہ فرق گویا فطرت کا ایک اشارہ ہے۔ اس فرق کی صورت میں فطرت انسان کو بتا رہی ہے کہ تم صرف آج (today) پر قناعت نہ کرو بلکہ تمہیں کل (tomorrow) کو سامنے رکھ کر اپنی سرگرمیوں کا نقشہ بنانا ہے۔ دوسری مخلوقات کی کامیابی صرف یہ ہے کہ وہ اپنے آج کو پالیں۔ مگر انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ آج کے بعد اپنے کل میں بھی کامیاب رہے۔ وہ موت کے بعد آنے والی ابدی دنیا میں اپنے لیے بہتر مقام حاصل کرلے۔