جنت کا استحقاق
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴
جنت کا استحقاق
جنت بے حد عظیم نعمت ہے۔ وہ بے حد مہنگی قیمت پر کسی کو ملے گی۔ بہت تھوڑے خوش نصیب لوگ ہوں گے جو جنت کی لطیف دنیا میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں۔
جنت میں داخلے کا پہلا امتحان یہ ہے کہ آدمی معرفت کے درجے میں اپنے رب کو پائے۔ افکار و خیالات کے جنگل میں وہ سچائی کو دریافت کرے۔ وہ نہ دکھائی دینے والے واقعے کو دیکھے۔ وہ نہ محسوس ہونے والی چیز کو محسوس کرے۔ وہ ظاہری ہنگاموں سے گزر کر باطن کی دنیا کا مسافر بن جائے۔
اسی طرح جنت میں داخلے کی شرط یہ ہے کہ آدمی سرکشی کا اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکا دے۔ خود پرست بننے کے تمام محرکات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ سچا خدا پرست بن جائے ۔ کشش اور جاذبیت کے بے شمار مراکز سے منہ موڑ کر وہ ہمہ تن خدا کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اسی طرح جنت میں داخلہ صرف اس شخص کے لیے ممکن ہوگا جو منفی حالات کے درمیان ہمیشہ مثبت ذہن پر قائم رہے۔ جو اپنے سینے میں اٹھنے والے حسد اور گھمنڈ اور انتقام جیسے جذبات کو دفن کرکے یک طرفہ طور پر لوگوں کے لئے شفقت اور خیر خواہی کا پیکر بن جائے۔ جو ظلم اور بے انصافی کے مواقع کو پانے کے باوجود انہیں استعمال نہ کرے اور ہر حال میں اپنے آپ کو عدل و انصاف کا پابند بنا لے ۔ جنت ایک نفیس ترین خدائی کالونی ہے۔ اس نفیس کالونی میں صرف وہی روحیں داخل ہوں گی جو آخرت میں اس طرح پہنچیں کہ دنیا میں انھوں نے اپنے اوپر تطہیر کا عمل کر لیا تھا۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کثیف شخصیت کے ساتھ پیدا کیا جاتا ہے۔ اب ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی ذات پر خود تطہیری کا ایک مسلسل عمل شروع کرے ۔ یہاں تک کہ اس کی کثیف شخصیت پاک وصاف ہو کر لطیف شخصیت میں بدل جائے۔
جنتی انسان وہ انسان ہے جو کانٹوں کے درمیان پھول بن کر رہے۔ جو اندھیروں کے درمیان